.

یمن کی حوثی ملیشیا کےلبنانی وزیراطلاعات قرداحی کے حق میں پوسٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حوثی ملیشیا نے اتوار کے روزلبنانی وزیراطلاعات کے حق میں دارالحکومت صنعاء میں پوسٹرلگادیے ہیں۔ان صاحب کی یمن میں جنگ پرتنقید نے لبنان اورخلیجی ریاستوں کے درمیان سفارتی تنازع کھڑا کردیا ہے جبکہ حوثی ان کے بیان کواپنے حق میں گردان رہے ہیں۔

ان کے متنازع بیان کے بعد سعودی عرب نے لبنان کے ایلچی کوالریاض سےنکال دیا ہے اور بیروت سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔بحرین اورکویت نے بھی اس کے ساتھ اظہار یک جہتی میں ایسے ہی کیا ہے اور لبنانی سفیروں کوواپس جانے کا حکم دیا ہے۔ بعدازاں متحدہ عرب امارات نے بھی لبنان سے اپنے سفارت کاروں اور شہریوں کومملکت کے ساتھ یک جہتی کے طور پر واپس بلالیا ہے۔

انھوں نے یہ اقدامات لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے توہین آمیزتبصروں کے ردعمل میں کیے ہیں۔لبنانی وزیرنے ایک انٹرویو میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت کو’’بے سود‘‘قراردیا تھا۔

یمنی دارالحکومت صنعاء پر قابض حوثیوں نے لبنانی وزیرکےان بیانات پرتعریف کی ہے۔اتوار کے روز حوثیوں نے بل بورڈز اورلیمپ پوسٹوں پر جو پوسٹرآویزاں کیے تھے،ان میں ان کی تصویروالے پوسٹروں میں لکھا ہے:’’جی جارج، یمن جنگ بے ہودہ ہے۔‘‘

شہر میں دکانداروں اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجو صنعاء کی ایک سڑک جارج قرداحی سے منسوب کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے ایک سال بعد 2015 میں یمن میں عرب اتحاد نے بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ حکومت کی درخواست پر فوجی مداخلت کی تھی اور وہ تب سے حوثیوں کے خلاف جنگ آزما ہے۔

مسٹرقرداحی نے گذشتہ سوموار کو نشر کیے گئے اس متنازع انٹرویو میں کہا تھا کہ’’حوثی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنادفاع کر رہے ہیں۔‘‘ان کا یہ انٹرویو اگست میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔انھوں نے اس میں یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔اس جنگ کے نتیجے میں اب تک یمن میں ہزاروں افراد ہلاک اورلاکھوں بے گھرہوچکے ہیں۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے لبنانی درآمدات پر بھی پابندی عایدکردی ہے اورخلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کراپنے شہریوں کومختلف بحرانوں سے دوچار لبنان کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روزایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران اور اس کی آلہ کار تنظیمیں لبنان کی موجودہ صورت حال کی ذمے دار ہیں اور انھوں ہی نے لبنان کو بحران سے دوچارکیا ہے۔ان کا اشارہ ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب تھا۔

انھوں نےالعربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے ساتھ کوئی بحران نہیں بلکہ ایران کی بالادستی اور اثرونفوذ کی وجہ سے لبنان میں بحران ہے۔نیز اس ملک میں سیاسی نظام پرحزب اللہ کا غلبہ ہمیں تشویش سے دوچارکرتا ہے۔