.
جوہری ایران

امریکی بمبار اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی ایک ساتھ پرواز میں ایران کے لیے پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی F-15 لڑاکا طیارے نے ہفتے کے روز امریکی بمبار طیارے کے ساتھ خطے کی فضا میں پرواز کی۔ یہ پرواز ایران کے لیے خطرے کا واضح پیغام ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ پرواز خطے میں امریکی افواج کے ساتھ جاری ’’آپریشنل تعاون" کی علامت ہے۔

اسرائیل اور امریکی افواج کے بمبار طیاروں کی مشترکہ پرواز کا مشن اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی اور امریکی حکام تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی کے سلسلے میں ویانا میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کررکھے ہیں۔

اسرائیلی اخبار’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے تناظر میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں شروع کی ہیں جن میں میزائلوں اور کیمیائی حملوں کے خلاف فورسز کے ردعمل کو جانچنے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔

اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے آنے والے مہینوں میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی مشقیں کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ سائٹ نے مزید کہا کہ مُمکنہ اسرائیلی فضائی حملے کے منصوبے کے کچھ پہلو جو ابھی " تیاری" کے مرحلے میں ہیں مختصر عرصے میں تیار ہو سکتے ہیں جب کہ منصوبے کے دیگر امور مکمل طور پر قابل عمل ہونے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے پرواز کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کی ہیں جس میں امریکی B-1b بمبار کو دکھایا گیا ہے۔ یہ بمبار طیارہ بھاری بنکر کو تباہ کرنے والے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کی زیر زمین دبی جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں اس جہاز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی حکام کھلے عام ایران کے جوہری پروگرام پر فوجی حملے کی دھمکی دیتے ہیں، جب کہ امریکی حکام تہران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے سفارتی مذاکرات کے علاوہ "دوسرے آپشنز" کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے پر زیادہ محتاط انداز میں بات کرتے ہیں۔

اس سال کے آغاز اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف اویو کوچاوی نے اعلان کیا کہ انہوں نے فوج کو ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے لیے نئے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔