.
افغانستان وطالبان

طالبان کے عہد میں بھی افغانستان میں بھنگ کی کاشت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان نے ملک میں منشیات کی غیر قانونی تجارت روکنے کا عہد کیا تھا لیکن اب تک غلام علی جیسے کاشتکاروں کے لیے کچھ بھی نہیں بدلا ہے جن کی بھنگ کی قد آور فصل قندھار کے قریب تین ہیکٹر (آٹھ ایکڑ) اراضی پر لہہ لہا رہی ہے۔

بھنگ کا یہ کھیت قندھار کے شمال مشرق میں ضلع پنجوائی کو جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے جہاں گہرے سبز رنگ کی اس فصل کی بُو دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔

غلام علی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں اس سے کسی بھی دوسری فصل یا پھلوں کے مقابلے میں زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔‘

منافع بخش کاروبار

تیس سالہ غلام علی کے بقول ’میرے پاس پوست کی فصل اگانے کا آپشن بھی تھا لیکن اسے بیماری سے بچانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری اور کیمیکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

اگست میں طالبان کی طرف سے گرائی جانے والی سابقہ امریکی حمایت یافتہ حکومت کے وقت حشیش کے کاشتکاروں کو فی کلو پیداوار کے لیے مقامی حکام کو 17 ڈالر (تین ہزار پاکستانی روپے) ٹیکس ادا کرنا پڑتے تھے۔

غلام علی نے کہا: ’یہ ٹیکس سرکاری طور پر وصول نہیں کیا جاتا تھا، یہ ہمیں ادا کرنا ہی پڑتا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ ہماری فصل کو تباہ کر سکتے تھے۔‘

غلام علی کے خاندان نے طالبان کی پچھلی حکومت کے خاتمے سے ٹھیک پہلے یعنی سن 2000 میں مکئی کی فصل کی بجائے بھنگ کاشت کرنا شروع کر دی تھی اور اس پر انہیں کوئی پچھتاوا بھی نہیں۔

غلام علی کے تقریباً 20 رشتہ دار مٹی سے بنے اس کے فارم ہاؤس میں رہتے ہیں۔ وہ زیادہ دولت مند تو نہیں ہیں لیکن ان کے بچے سکول جاتے ہیں اور دیہی ماحول کے تناظر میں ایک آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اگلے ماہ بھنگ کی فصل سے تیل نکالنے کے لیے پودوں کو چھانٹ لیا جائے گا جس کے بعد اس کی پسائی اور تیل نچوڑنے کے لیے اسے گرم کیا جائے گا۔ حاصل شدہ تیل کو سیاہ اور سبز حشیش کے پیسٹ میں تبدیل کر کے اسے فروخت اور برآمد کیا جائے گا۔

اس پیسٹ کو 60 ڈالر (10 سے 12 ہزار پاکستانی روپے) فی کلو کے حساب سے سمگلروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

غلام علی جانتے ہیں کہ سمگلرز اسے ایران، پاکستان یا بھارت میں دوگنی قیمت پر فروخت کریں گے لیکن اس کے باوجود انہیں امید ہے کہ فی کلو پیداوار پر انہیں تین ہزار روپے کا منافع ہو گا۔

اس سب کے باوجود طالبان انتظامیہ منشیات کے کاروبار کی باقاعدہ مخالفت کر رہی ہے۔

طالبان حکومت کے تحت قندھار کے گورنر یوسف وفا نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت نے گذشتہ ماہ نشے کے عادی ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا: ’ہم پوست اور چرس کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم لوگوں کو اسے بیچنے والوں اور سمگلروں سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

گورنر یوسف وفا نے مزید کہا: ’ہم کسانوں کو اسے اگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

دوسری جانب ان تمام منصوبوں کے باوجود غلام علی اسے جاری رکھنے کے لیے پُرامید ہیں۔

طالبان کے حکومت میں آتے ہی کم از کم دوہرے ٹیکس کا خاتمہ کر دیا ہے جب کاشتکاروں کو دونوں طالبان اور سابق حکومت کے حکام کو منافعے میں سے ٹیکس دینا پڑتا تھا۔

انہوں نے کہا: ’وہ (طالبان) سڑک کے اس پار موجود ہیں۔ لیکن وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتے۔‘