.

لبنانی وزیراعظم میقاتی کاکویتی ہم منصب اور امیرِقطرسے خلیج سفارتی بحران پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم نجیب میقاتی نے سوموار کے روز گلاسگو میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام منعقدہ سی او پی 26 موسمیاتی سربراہ کانفرنس کے موقع پرامیرِقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور کویت کے وزیراعظم شیخ صباح الخالد الصباح سے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے ملک کے نئے سفارتی بحران پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

لبنانی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق شیخ تمیم نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی قطری وزیرخارجہ کو بیروت بھیجیں گے تاکہ وہ لبنان کی حمایت کے طریقے تلاش کرسکیں اور لبنان اورخلیجی ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں۔

نجیب میقاتی نے کویت کے وزیراعظم شیخ صباح اور وزیر خارجہ احمد ناصرالمحمد الصباح سے بھی ملاقات کی ہے اوران سے گفتگو کرتے ہوئےاس خواہش کا اظہارکیا ہے کہ لبنان خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات برقراررکھنا چاہتا ہے اور وہ بھائی چارے اور باہمی تعاون میں آنے والی کسی بھی خلیج کو پاٹنے کے لیے کام کرنےکوتیار ہے۔

لبنانی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق شیخ صباح نے جی سی سی ممالک کے اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے لبنان کی ہر پہلوسے حمایت کی خواہش کااظہار کیا۔انھوں نے یہ بھی کہا:’’لبنان اپنی دانش مندی سے کسی بھی مسئلہ یا سقم کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اوراسے کویت اور دیگر عرب ممالک کی طرف سے تمام مطلوبہ حمایت ملےگی۔‘‘

لبنان کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات سعودی عرب اوریمن جنگ میں متحدہ عرب امارات کے کردارکے بارے میں وزیراطلاعات جارج قرداحی کے تنقیدی تبصروں پرتناؤ کا شکار ہوچکے ہیں اور صورت حال نے ایک سفارتی بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔

سعودی عرب نے ان کے بیان کے ردعمل میں لبنان کے ایلچی کوالریاض سے نکال دیا ہے،بیروت سے اپنےسفیرکو واپس بلا لیا ہے او لبنان کی تمام درآمدات پرپابندی عایدکر دی۔بحرین اور کویت نے بھی اس کی پیروی میں اپنے سفیروں کوواپس بلالیا ہےاور متحدہ عرب امارات نے بیروت سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں کے لبنان جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی نے اگست میں ایک انٹرویو میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف عرب اتحاد کی یمن میں فوجی مداخلت کو’’بے سود‘‘ قراردیا تھا۔مسٹرقرداحی نے گذشتہ سوموار کو نشر کیے گئے اس متنازع انٹرویو میں کہا تھا کہ’’حوثی بیرونی جارحیت کے خلاف اپنادفاع کر رہے ہیں۔‘‘

انھوں نےاتوارکو ایک بیان میں کہاکہ ان کے مستعفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انھوں نے بالاصرار کہا ہے کہ لبنانی کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے انھوں نے جوکچھ کہا تھااور جو تبصرے کیے، وہ ان کے ذاتی خیالات کے عکاس تھے۔

وزیراعظم نجیب میقاتی نےجارج قرداحی کے تنقیدی تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی مضمرات پرقابو پانے کی کوشش کی ہے اوراس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے بیانات کا حکومت کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان کو درپیش بحران قرداحی کے بیانات سے بھی بڑا ہے اور بنیادی بحران تولبنان کی سیاست میں حزب اللہ کا بڑھتا ہوااثرورسوخ ہے۔