.

امریکا کی مآرب میں حوثیوں کے وحشیانہ حملےکی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکی سفارت خانے میں قائم مقام سفیر کیتھی ویسٹلی نے کہا ہےکہ حوثیوں کو تشدد ختم کرنا چاہیے اور جامع جنگ بندی پر رضامند ہونا چاہیے۔

امریکی قائم مقام سفیر نے مآرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

یمن میں برطانوی سفیر رچرڈ اوپین ہائیم نے مآرب میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور تشدد کے فوری خاتمے اور شہریوں اور بے گھر افراد پر حملے روکنے پر زور دیا۔

اوپین ہائیم نے یمنی وزیر اعظم معین عبدالملک کے ساتھ سمندر میں کھڑے تیل بردار جہاز کے خطرسے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یمنی وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ جرائم دنیا پر ثابت کرتے ہیں کہ حوثی ملیشیا امن پر یقین نہیں رکھتی۔

مآرب کے گاؤں "العمود" پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں مرنے والوں کی تعداد انتالیس تک پہنچ گئی ہےجن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

’العربیہ‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ ملبے تلے سے مزید متاثرین کی لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

حوثی ملیشیا نے مآرب کے جنوب میں جوبا ڈاریکٹوریٹ میں واقع گاؤں پر دو بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ جن میں سے ایک مسجد پر جا گرا جس سے بڑی تعداد میں شہری مارے گئے۔