.

جنرل عبدالفتاح البرہان نے سوڈانی عوام کی اُمنگوں کا خون کیا:امریکی ایلچی

سوڈانی فوج 25 اکتوبر کو’ناقابل قبول‘ واقعات کے بعد حراست میں لیے گئے تمام شہریوں کورہاکرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکاکے ہارن آف افریقاکے لیے خصوصی ایلچی جیفری فیلٹمین نے سوڈانی فوج زوردیا ہے کہ وہ25 اکتوبر کو’ناقابل قبول‘ واقعات کے بعد حراست میں لیے گئے تمام شہریوں کورہاکرے۔

سوڈان کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی کے ذمے دار خصوصی ایلچی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی جنرل عبدالفتاح البرہان نے ’’ایک پُرامن، جمہوری ملک کے لیے سوڈانی عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے اوران کے ساتھ غداری کی ہے۔‘‘

انھوں نے ایک فون کال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان میں جمہوری حکمرانی کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔واضح رہے کہ سوڈان کے اعلیٰ فوجی جنرل عبداللہ حمدوک کے اقتدار پر قبضے اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور دیگر سرکاری عہدے داروں کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل تک جیفری فیلٹمین خرطوم ہی میں تھے۔

جنرل البرہان نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ عبداللہ حمدوک کو بچا رہے ہیں اورملک کو خانہ جنگی کا شکار ہونے سے بچانے کے لیےانھوں نے حکومت برطرف کی تھی۔فیلٹمین نے کہا کہ جمہوریت کی منتقلی میں فوج اورشہریوں کا’’اہم کردار‘‘ہے۔انھوں نے سوڈانی فوج پرزور دیا کہ وہ 25 اکتوبر کو’ناقابل قبول‘واقعات کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے تمام شہریوں کو رہا کرے۔

فیلٹمین نے واضح کیا کہ بین الاقوامی بالخصوص امریکا کی طرف سے سوڈان کی حمایت جمہوریت کے لیے پیش رفت سے مشروط ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں:’’(سوڈان کے فوجی)جرنیلوں کو جلد یہ احساس ہوگا کہ اقتصادی ترقی،قرضوں سے نجات، عالمی بنک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ذریعے مالی اعانت تک رسائی جیسے معاملات کا معاملہ آتا ہے توانھیں عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔‘‘

امریکا اور یورپ نے متعدد بار سوڈانی فوج سے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔آئی ایم ایف اورامریکا نے فوجی بغاوت کے بعدسوڈان کی اقتصادی امداد معطل کردی ہے۔

العربیہ انگلش کی جانب سے سوڈان میں حکومت مخالف فوجی بغاوت کے لیے روس کی حمایت پرامریکا کی تشویش سے متعلق پوچھے گئے سوال پر فیلٹمین نے کہا:’’ہمیں فوج کے اقتدار پرقبضے کے بعد روس کے ابتدائی بیانات پر تشویش لاحق ہوئی تھی اورایسا لگتا تھا کہ وہ فوج کے اقتدار پر قبضے کی تائید وحمایت کرے گا۔‘‘

لیکن انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کا حوالہ دیا جس پرروس نے بھی دست خط کیے تھے۔ فیلٹمین نے کہا کہ ’’یہ بیان بین الاقوامی اتفاق رائے کے مطابق تھا۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن سوڈان فائل پر ماسکو کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انھوں نے کہاکہ ’’میں یہ نہیں کَہ سکتا کہ ہمارے مؤقف مکمل طورپرمختلف ہیں لیکن اس میں کچھ مماثلت ہے کہ ہم (دونوں ممالک) سوڈان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اورہم اس بات کویقینی بنانا چاہتے ہیں کہ صورت حال غیرمتشدد رہے۔‘‘

سوڈان میں سابق مطلق العنان صدر عمرالبشیر کی معزول کے بعد طے پانے والے بندوبست کے تحت جنرل عبدالفتاح البرہان اورفوج نےآیندہ ہفتوں میں سویلین قیادت کی حامل حکومت کو اقتدارسونپنا تھا۔سوڈان میں شہری اب بھی احتجاج کر رہے ہیں اور وہ سویلین قیادت والی حکومت کو بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے باوجود کہ فیلٹمین خرطوم میں ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن ڈی سی میں ہیں اور خطے کے سفرپرروانہ ہونے پرغورکررہے ہیں۔