.

کابل :افغانستان کے بڑے اسپتال میں دھماکوں میں 15 افراد ہلاک، 34 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں واقع ملک کے سب سے بڑے فوجی اسپتال میں فائرنگ کے بعد دو دھماکوں کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور34 زخمی ہو گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے بتایاہے کہ منگل کے روزدھماکے کابل کے وسط میں واقع 400 بستروں پر مشتمل سردارمحمد داؤد خان اسپتال کے داخلی دروازے پر ہوئے ہیں اورسکیورٹی فورسز کو علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔

سرکاری طورپراسپتال پراس حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن طالبان کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط 15 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ34 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کابل میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک طالب۔
کابل میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک طالب۔

اٹلی سے تعلق رکھنے والے امدادی گروپ ایمرجنسی نے، جو دھماکے کی جگہ سے قریباً تین کلومیٹردور واقع ٹراما اسپتال چلاتا ہے،بتایا ہے کہ ان کے ہاں نو زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

بعض مکینوں کی جانب سے شیئرکی گئی تصاویرمیں شہر کے علاقے وزیراکبرخان میں سابق سفارتی زون کے قریب دھماکوں کی جگہ سے دھواں اٹھتے دیکھا جاسکتاہے۔عینی شاہدین نے بتایاکہ دو ہیلی کاپٹرعلاقے کے اوپر پروازیں کر رہے ہیں۔

فوری طورپر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ لیکن سرکاری خبررساں ایجنسی باخترنے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کے متعدد جنگجو اسپتال میں داخل ہوئے تھے اوران کی طالبان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

اس اسپتال میں کام کرنے والے ایک طبی کارکن نے بتایا کہ اس نے پہلے ایک بڑے دھماکے کی آوازسنی۔اس کے بعد دو منٹ تک فائرنگ ہوئی اور پھر قریباً دس منٹ کے بعد ایک اوربڑا دھماکا ہوا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ دھماکے اسپتال کے وسیع کمپلیکس کے اندرہوئے ہیں یا داخلی دروازے پر ان کے ساتھ فائرنگ کی گئی ہے۔

داعش کے حملے

اگست میں طالبان کے مغرب کی حمایت یافتہ صدر اشرف غنی کی حکومت کے خلاف فتح کے بعداس طرح کے بم دھماکوں اور حملوں اضافہ ہواہے۔داعش نے ان حملوں میں مساجد اور مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ان میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔اس جنگجو گروپ نے 2017 میں ایک اسپتال پربڑا حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

داعش کے حملوں کی وجہ سے بیرون ملک بالخصوص مغربی ممالک میں اس بات کی تشویش بڑھ گئی ہے کہ جنگ زدہ ملک ایک مرتبہ پھر سخت گیر جنگجو گروپوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور یہ بیرون ملک دہشت گردی کے حملے کرسکتا ہےجیسا کہ 2001 میں القاعدہ کے ایک گروپ نے امریکا پر طیارہ حملے کیے تھے۔