.
افغانستان وطالبان

افغان گھرانہ اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر کیوں مجبور ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں انسانی صورت حال روز بروز بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بات اب غذائی قلت اور امن و امان کے مسئلے سے آگے نکل کر یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بعض خاندان اپنے بچوں کو فروخت کر ہے ہیں۔ اس انتہائی اقدام کا مقصد اپنی غذائی ضروریات پوری کرنا ہے کیوں کہ طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد افغانستان کے لیے انسانی امداد کا سلسلہ رک گیا ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک وڈیو میں ایک افغان خاتون اپنی پوتی کو فروخت کے واسطے پیش کر رہی ہے۔ مزید افسوس کی بات یہ کہ کسی نے بھی اس بچی کو نہیں خریدا۔ یہ خاتون اور ان کا گھرانہ افغان صوبے گور کے علاقے درہ قاضی میں رہتا ہے۔

خاتون کا نام روحشانہ صمیمی ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں اپنے دو بیٹوں ، ایک بہو ، 4 پوتیوں اور 2 پوتوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔

خاتون کے مطابق انہوں نے ایک ہفتہ قبل اپنی سب سے بڑی پوتی کو 2200 ڈالر اور سب سے چھوٹی کو 1100 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا تھا تاہم کسی نے ان دونوں میں سے کسی کو نہیں خریدا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ "ہم بھوکے ہیں اور اس دوران کسی نے ہماری مدد نہیں کی یہاں تک کہ پمارے رشتے داروں نے بھی نہیں ،،، میری آرزو تھی کہ ہمیں امداد مل جاتی تو میں اپنی پوتیوں کو فروخت کرنے پر مجبور نہ ہوں"۔

بے روزگاری میں اضافے اور سیالیت کی شدید کمی کے ساتھ افغانستان اپنے اقتصادی بحران میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔ جہاں بعض افغانوں نے اپنے گھروں کا فرنیچر اور یہاں تک کہ گاڑیاں بھی بیچ ڈالیں وہاں بعض خاندانوں کے سامنے اپنی چھوٹی بچیوں کو فروخت کرنے یا ان کی شادی کر دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں !

ملک کے مغربی حصے میں ایک گاؤں کے اندر تنگ دستی کے ہاتھوں مجبور باپ نے اپنی 6 سالہ اور ڈیڑھ سالہ بیٹیوں کو 3350 اور 2800 ڈالر کے عوض فروخت کر ڈالا۔

کئی واقعات میں لوگوں نے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی بچیوں کو عمر میں کافی بڑے مردوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔ یہ مرد بچیوں کے بالغ ہونے پر ان سے شادی کر لیں گے۔

تقریبا 15 گھرانوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 550 سے لے کر 4000 ڈالر کے درمیان کی قیمت میں اپنی چھوٹی بچیوں کو فروخت کر ڈالا۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم "يونيسيف" کی 2018ء میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق 42% افغان گھرانوں میں ایک ایسی بیٹی ضرور ہے جس کی شادی 18 برس کی عمر سے پہلے کر دی گئی۔