.

آسٹریلیا: لاپتا ہونے والی چار برس کی بچی 18 دن بعد مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی آسٹريليا کے دور دراز کے ايک علاقے سے قريب تين ہفتے قبل غائب ہونے والی ايک بچی معجزانہ طور پر صحيح سلامت بازیاب کرا لی گئی ہے۔ کليو کی گمشدگی کا معاملہ کچھ دنوں سے آسٹريلوی ذرائع ابلاغ ميں توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔

آسٹريليا ميں پوليس نے ايک چار سالہ بچی کو بازياب کرا ليا ہے۔ کليو اسمتھ نامی يہ بچی اٹھارہ دن قبل آسٹريليا کے مغربی حصے ميں دور دراز کے ايک علاقے سے غائب ہو گئی تھی۔

آسٹریلوی پولیس نے بچی بازیاب کروائی
آسٹریلوی پولیس نے بچی بازیاب کروائی

کليو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کيمپنگ کر رہی تھی، جب وہ اچانک لاپتہ ہوئی۔ اس کيس نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ ديا ہے۔ حکام اور اہل خانہ کليو کے محفوظ واپس ملنے کی اميد کھوتے جا رہے تھے کہ منگل کی شام معجزانہ طور پر وہ صحيح سلامت مل گئی۔

کليو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کارناورن کميونٹی ميں رہتی ہے، جو پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ کليو اپنے اہل خانہ کے ساتھ 'بلو ہولز کيمپ گراؤنڈ‘ پر کيمپنگ کر رہی تھی، جو ان کے آبائی علاقے کارناورن سے پچھتر کلوميٹر کی دوری پر واقع ہے۔

کیلو کے والدین
کیلو کے والدین

کيمپنگ کے دوسرے دن، سولہ اکتوبر کو وہ اپنے سليپنگ بيگ ميں سو رہی تھی کہ اچانک غائب ہو گئی۔ فوراً زمين اور قريبی سمندری علاقے ميں بچی کو ڈھونڈنے کے ليے وسيع تر آپريشن شروع ہو گيا، جس ميں ايک سو سے زائد پوليس اہلکاروں نے حصہ ليا۔ تفتيش کاروں کو ابتداء ميں ايسا لگا کہ شايد بچی چلتے پھرتے کہيں راستہ بھول گئی ہو گی مگر ايسے شواہد سامنے آنے لگے کہ شايد دال ميں کچھ کالا ہے۔

منگل کے روز حکام نے کارناورن ميں ايک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے يہ بچی برآمد ہوئی۔ بچی نے جيسے ہی پوليس افسر کو ديکھا، وہ کہہ اٹھی، ''ميرا نام کليو ہے۔‘‘ اس پر مذکورہ پوليس افسر کی آنکھيں نم ہو گئيں۔ کليو کو طبی اعتبار سے صحت مند قرار دے ديا گيا ہے اور اس کے حوصلے بھی کافی بلند ہيں۔ اسے اس کے والدين کے حوالے کر ديا گيا ہے۔

پوليس نے ايک چھتيس سالہ شخص کو حراست ميں لے ليا ہے۔ اس پر بدھ کے روز فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔

آسٹريلوی وزير اعظم اسکاٹ موريسن، متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہيں، نے بچی ملنے پر پوليس کا شکريہ ادا کيا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بچے کا کھو جانا، والدين کے ليے ايک بھيانک خواب ہوتا ہے اور وہ شکر گزار ہيں کہ کليہ صحيح سلامت واپس اپنے چاہنے والوں کے پاس پہنچ چکی ہے۔