.

ایران کا بحیرۂ عمان میں امریکا کی تیل ’چوری‘ کی کوشش میں ملوّث ٹینکرپر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے بحیرۂ عمان میں امریکا کی ایرانی تیل چرانے کی کوشش میں ملوّث ایک ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے۔اس کے بارے میں تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بحیرہ عمان میں اس ٹینکر کے ذریعے ایران کا تیل ’چوری‘کرنا چاہتا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس واقعہ کی تاریخ واضح کیے بغیر بتایا کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک ٹینکر کو قبضے میں لے لیا اور اس پر لدے تیل کو کسی ’’نامعلوم‘‘مقام کی طرف جانے والے دوسرے ٹینکر میں منتقل کردیا۔

سرکاری ٹی وی نے مزید بتایا کہ اس کے بعد پاسداران انقلاب ایران کی افواج اس دوسرے ٹینکرپراُتر یں،انھوں نے اس پر قبضہ کر لیا اوراسے ایرانی پانیوں کی طرف لے گئی ہیں۔

پاسداران انقلاب نے بدھ کو بعد میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ یہ ٹینکر25 اکتوبر کی صبح ایران کی بندرگاہ بندرعباس پرلنگرانداز ہوا تھا۔اس واقعے کی واضح اور ناقابل تردید فوٹیج اگلے چند گھنٹت میں میڈیا کو فراہم کر دی جائے گی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے اس ٹینکرکو واپس لینے کی کوشش میں ہیلی کاپٹر اور لڑاکا جہازوں کا استعمال کیا ہے لیکن انھیں ناکامی کا مُنھ دیکھنا پڑا ہے اور یہ ٹینکر اس وقت ایران کی سمندری حدود میں ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق وزیرتیل جوادعوجی نے پاسداران انقلاب کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی قزاقوں سے بچایا۔ رائٹرز نے امریکی بحریہ کے بحرین میں موجود طیارہ بردار پانچویں بحری بیڑے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے واقعے کی اطلاعات دیکھی ہیں لیکن فی الحال اس کے پاس فراہم کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ بحیرہ احمر میں گذشتہ چند سال کے دوران آئیل ٹینکروں پرحملوں کے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں۔امریکا اوراس کے اتحادی ایران پرالزام عاید کرتے ہیں کہ اس نے اس اہم آبی گذرگاہ میں ٹینکروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے جس سے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔