.

سوڈان میں ثالثی کی کوششوں سے البرہان اور حمدوک کے بیچ سمجھوتا طے پائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ سوڈان میں بحران کے حل کے واسطے وساطت کاروں کی کوششیں آگے بڑھ رہی ہیں جن کے نتیجے میں جلد ایک سمجھوتا طے پا سکتا ہے۔

حالیہ جاری بات چیت سے مطلع ذرائع کے مطابق برطرف حکومت کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ثالثی کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

عربی روزنامے "السودانی" نے آج بدھ کے روز مذکورہ ذرائع کے حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ حالیہ بحران کے خاتمے کے لیے جلد ہی موافقت کا ایک فارمولا سامنے آئے گا۔

ثالثی کی کوششوں سے با خبر دیگر ذرائع نے امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ کو بتایا کہ عسکری اور سیاسی شخصیات اقتدار کی تقسیم پر سمجھوتے تک پہنچنے کے قریب آ رہے ہیں۔ اس واسطے بین الاقوامی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے حکومت اور خود مختار کونسل کو تحلیل کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تجاویز

باخبر ذرائع نے بحران کے حل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ زیر بحث تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ عبداللہ حمدوک کو زیادہ بڑے اختیارات دیے جائیں تاہم ایک ایسی نئی حکومت کے ساتھ جو فوج کے لیے زیادہ قابل قبول ہو۔

ذرائع کے مطابق سمجھوتے کی رُو سے سوڈانی فوج حکومت کے زیر انتظام قومی سلامتی اور دفاع کی کونسلوں کی ذمے دار ہو گی۔ البتہ نئی خود مختار کونسل کی تشکیل کا مسئلہ ابھی تک زیر بحث ہے۔

واضح رہے کہ 1956ء میں آزادی کے بعد سے سوڈانی منظر نامے اور ملکی تاریخ میں ایک بڑے حصے پر فوج براجمان رہی ہے۔

یاد رہے کہ 25 اکتوبر کے بعد سے سفارت کار، کاروباری شخصیات اور سیاست دان ملک کو حالیہ بحران سے نکالنے کے لیے وساطت کار کا کردار ادا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

ایک مذاکرات کار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ "ہم نے تمام متعلقہ عسکری اور شہری عناصر سے ملاقات کی ہے اور وہ سب زیر بحث امور پر ابتدائی طور سے آمادہ ہو چکے ہیں"۔

تاہم مذکورہ مذاکرات کار نے یہ بھی بتایا کہ ابھی تک بعض رکاوٹیں موجود ہیں جب کہ سول کیمپ میں بہت سے افراد نے ایسی شرائط رکھی ہیں جو بات چیت شروع کرنے کے لیے نا گزیر ہیں۔

سوڈان میں 25 اکتوبر سے شدید تناؤ اور کشیدگی اور دارالحکومت خرطوم میں سول نافرمانی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ نافرمانی فوج کی جانب سے سول حکومت کی تحلیل ، ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی بعض شقوں پر عمل درامد معطل کیے جانے کے خلاف احتجاج کے طور پر کی جا رہی ہے۔