.

شاہ سلمان کاجی سی سی کے درمیان یک جہتی اورمضبوط تعلقات کی اہمیت پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود نے کابینہ کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی ہے۔انھوں نے کابینہ کو بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور امیرِکویت شیخ نواف الاحمد الصباح سے ٹیلی فون پر ہونے والی اپنی بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا۔

انھوں نے دونوں عرب لیڈروں سے گفتگو کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)کے رکن ممالک کے درمیان یک جہتی اور گہرے تعلقات کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زوردیا۔

سعودی پریس ایجنسی(ایس پی اے) کے مطابق کابینہ نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں گذشتہ ہفتے منعقدہ جی 20 کے سربراہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں غور کیا گیا ہے۔اس سربراہ اجلاس میں سعودی عرب نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ عالمی بحران سے بحالی کے لیے اپنا قائدانہ کردارادا کرتا رہے گا۔اس کے علاوہ اس نے جی 20 کے رکن ممالک اور پوری دنیا میں خوش حالی کے حصول کے لیے کثیرجہت اقدامات میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا ہے۔

سعودی عرب کے قائم مقام وزیربرائے میڈیاڈاکٹرماجد بن عبداللہ القصبی نے بتایاہے کہ کابینہ نے مملکت اوربعض دوسرے ممالک کے لیڈروں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے حاصلات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ان ملاقاتوں میں مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے سے متعلق امور اور تجاویزپرتبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق کابینہ نے گذشتہ ہفتے الریاض میں منعقدہ پانچویں سالانہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس کے نتائج کا بھی جائزہ لیا ہے۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے حکومتوں اوربین الاقوامی کمپنیوں کے نمایندوں،سرمایہ کاروں اور موجدین نے شرکت کی تھی اور اس میں دنیا کو درپیش مختلف النوع چیلنجز سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا گیا تھا۔

سعودی کابینہ نے گذشتہ ہفتے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی دروازے پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کی ہے اور اس بات پرزوردیا ہے کہ سعودی عرب ہرمشکل گھڑی میں یمن اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔اس نے جنوبی یمن کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد کے لیے الریاض سمجھوتے کی پیروی کریں تاکہ ددہشت گردی سے نمٹا جاسکے اور جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام حاصل کیا جاسکے۔