.

لبنانی وزیر خارجہ کا حزب اللہ کو نکیل ڈالنے میں ناکامی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر خارجہ عبداللہ بوحبیب نے ملک میں حزب اللہ کے کردار کو روکنے میں اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کیاہے۔ لبنانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت حزب اللہ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے۔

وزیر کا یہ تبصرہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحران کے بارے میں ہونے والی بات چیت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نےکہا ہے کہ لبنان کا مسئلہ سیاسی نظام پر حزب اللہ کے غلبے کا نتیجہ ہے۔

ایران کے پراکسیوں کا تسلط

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان کے ساتھ کوئی بحران نہیں ہے، بلکہ ایران کے پراکسیوں کے تسلط کی وجہ سے لبنان کے ساتھ بحران پیدا ہوا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کو جامع اصلاحات کی ضرورت ہے جو اس کی خودمختاری کو بحال کرے، جو اس کی طاقت کو بحال کرے اور عرب دنیا میں اسے اس کا مقام دلا سکے۔

سعودی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ لبنان میں سیاسی نظام پر حزب اللہ کا غلبہ ہمارے لیے باعث تشویش ہے اور لبنان کے ساتھ معاملات کو بیکار بنا دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مُملکت لبنان میں مداخلت نہیں کرتی اور اس پر کوئی حکم نہیں چلاتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب جامع اصلاحات کی جانب کسی بھی کوشش کی حمایت کرے گا جس سے عرب دنیا میں لبنان کی پوزیشن بحال کرنے میں مدد مل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے بارے میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

ایک اور تناظر میں، سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ گذشتہ سال G20 سربراہی اجلاس کی مملکت کی صدارت نے عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے زور دیا کہ گرین سعودی اور گرین مڈل ایسٹ کے اقدامات کو عالمی سطح پر غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔

یمن کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت یمن کے حوالے سے اپنے اقدام پر قائم ہے۔ مملکت کے اس امن اقدان کی شروعات ایک جامع جنگ بندی اور سیاسی بات چیت سے ہوتی ہے۔

ایران کے ساتھ بات چیت کی تفصیلات کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ہم ابھی تک ٹھوس نتائج تک نہیں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور بھی ہوں گے۔