.
افغانستان وطالبان

افغانستان : طالبان نے غیر ملکی کرنسی کے استعمال پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان حکومت نے ملک میں غیر ملکی کرنسی کے ذریعے معاملات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ طالبان کے مطابق اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے کیوں کہ یہ ملکی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔

طالبان تحریک کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ "ملک میں غیر ملکی کرنسی کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ملک میں اقتصادی صورت حال اور قومی مفادات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام افغان شہری ہر قسم کی لین دین میں افغانی کرنسی کا استعمال کریں"۔

اس وقت ملک میں کئی معاملات میں امریکی ڈالر کا استعمال کیا جاتا ہے جب کہ جنوبی سرحد کے تجارتی راستوں کے نزدیک واقع علاقوں میں پاکستانی روپیہ بھی استعمال ہوتا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایجنسیاں خبردار کر چکی ہیں کہ افغانستان دنیا میں بدترین انسانی بحرانات میں سے ایک بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ ایجنسیوں کے مطابق رواں موسم سرما میں 2.2 کروڑ سے زیادہ افغانوں کو غذائی امن کے فقدان کا سامنا ہو گا۔

یاد رہے کہ اگست کے وسط میں افغانستان پر طالبان تحریک کے مکمل کنٹرول کے بعد سے 3.8 کروڑ کی آبادی والے ملک کو غذائی قلت اور رقوم اور سیالیت کی کمی کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ بیرون ملک افغان مرکزی بینک کے مالی اثاثوں کا منجمد کیا جانا اور بین الاقوامی امدادوں کا روک دیا جانا ہے۔