.

نامعلوم وجوہات کی بناء پر چین میں شہریوں کو خوراک کا ذخیرہ کرنے کی ہدایت

چینی حکومت کو دوبارہ کرونا کی وبا پھوٹنے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ گھروں میں زیادہ سے زیادہ مقدار میں خوراک ذخیرہ کریں۔ تاہم حکومت کی طرف سے اس اقدام کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی کہ آیا یہ اقدام خوراک کی بڑھتی قلت کا نتیجہ ہے یا کرونا وائرس کے پھیلنے کےنئے خطرے کے باعث نقل و حمل میں خلل کے خدشے کا نتیجہ ہے۔

پیر کی شام وزارت تجارت نے اپنی ویب سائٹ پر ایک اعلان شائع کیا جس میں چینی خاندانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ روزمرہ کی ضروریات اور ہنگامی ضرورت کی اشیا کی ایک خاص مقدار کا ذخیرہ کریں۔

وزارت تجارت نے مختلف مقامی حکام سے زرعی پیداوار، زرعی پیداوار کی ترسیل اور سپلائی میں سہولت فراہم کرنے، گوشت اور سبزیوں کے ذخیرے کی نگرانی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

سپلائی چین میں خلل

سنہ 2020ء کے اوائل میں ملک کے کئی حصوں میں کرونا وائرس پھیلنے کے عروج پر قرنطینہ کی وجہ سے سپلائی چین میں خلل پڑا تھا اور بہت سی شاہراہیں بند کر دی گئی تھیں۔

بیجنگ میں سرمائی اولمپکس اگلے فروری کے قریب آنے کے ساتھ حکومت کو وبا کی ایک نئی لہرکے پھیلنے کا خدشہ ہے اور ملک کے شمال میں وبا پھیلنے کے بعد حالیہ ہفتوں میں اس نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔

بیجنگ سے 1,700 کلومیٹر مغرب میں بنیادی طور پر لانچوں میں چھ ملین سے زیادہ افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

تاہم، باقی دنیا میں ریکارڈ کی گئی رپورٹس کے مقابلے میں چین میں کرونا کے مصدقہ کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔

کرونا وائرس کے نئے کیسز

پیر کو کرونا کے 92 کیسز ریکارڈ کیے جانے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کل منگل کو صرف 71 نئے کیسز کا اعلان کیا گیا۔ ستمبر کے وسط کے بعد سے چین میں روزانہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین دنیا میں خوراک کی مصنوعات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے جس کی وجہ سے وہ سفارتی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے اہم سپلائرز میں امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا ہیں۔

چینی اخبارات نے اطلاع دی ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر گذشتہ ماہ 28 غذائی اجناس کی قیمتوں میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔