.

اقوام متحدہ کے ایلچی نے سوڈان میں سمجھوتے کی تفصیلات ظاہر کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی فوکر پیرٹس کا کہنا ہے کہ سوڈانی فریقوں کے بیچ معاہدے کے لیے پیش کردہ تجاویز میں وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کی واپسی، گرفتار شدگان کی رہائی، ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تشکیل، آئین میں ترامیم کیا جانا اور ایمرجنسی ختم کرنا شامل ہے۔

جمعرات کے روز اپنے بیان میں پیرٹس نے زور دیا کہ سوڈان میں بحران کے خاتمے کے لیے چند روز کے اندر ایک معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے۔

ادھر سوڈانی سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ سوڈان کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے سابقہ حکومت کے 4 وزراء کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں وزیر مواصلات ہاشم حسب الرسول، وزیر ثقافت و اطلاعات حمزہ بلول، وزیر تجارت علی جدو اور نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر یوسف آدم شامل ہیں۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران میں خود مختار کونسل کا اعلان کیا جائے گا۔ کونسل 14 نشستوں پر مشتمل ہو گی جن میں 5 عسکری اور 6 شہری نمائندوں کے علاوہ آرمڈ اسٹرگل موومنٹ کے 3 نمائندے ہوں گے۔

اس سے قبل خرطوم میں موجود جنوبی سوڈان کے ثالثی وفد کے سربراہ توت قلواک نے انکشاف کیا تھا کہ سوڈان میں بحران کے فریقوں کے بیچ سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ قلواک کے مطابق سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان بعض گرفتار شدگان کی رہائی پر آمادہ ہو گئے ہیں جب کہ بقیہ افراد کو بعد میں آزاد کیا جائے گا۔

العربیہ اور الحدث کو دیے گئے خصوصی بیان میں قلواک نے کہا کہ یہ اقدام امن و استحکام کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے عبدالفتاح البرہان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں شخصیات کے بیچ سوڈان کی صورت حال زیر بحث آئی۔ انہوں نے ملک میں اقتدار کی جمہوری طور سے منتقلی اور شہری حکومت کی جلد تشکیل کی ضرورت کو باور کرایا۔

باخبر ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ سعودی سفیر علی بن حسن جعفر نے معزول سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک سے ملاقات کی۔ دونوں شخصیات کے درمیان حالیہ بحران اور اس سے نکلنے کے راستوں پر بات چیت ہوئی۔ سعودی سفیر نے باور کرایا کہ ان کا ملک سوڈان کے استحکام، وحدت اور ترقی کا خواہاں ہے۔

سوڈان میں پہلے کی نسبت حالات پر سکون نظر آ رہے ہیں اور دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر عسکری اہل کاروں کی موجودگی میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ملک میں انٹرنیٹ خدمت گیارھویں روز بھی منقطع ہے۔