.

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں میانمار میں انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار میں سنگین ترین جرائم کی تحقیق کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ رواں سال فروری میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے اکٹھا ہونے والے ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر منظم حملہ انسانیت کے خلاف جرائم کی حد تک پہنچ گیا۔

کمیشن کے سربراہ نکولس کومجین نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں کو بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے میانمار کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے خود مختار کمیشن کو 2 لاکھ سے زیادہ مرتبہ رابطہ کیا گیا۔ کمیشن نے شواہد کے 15 لاکھ سے زیادہ عناصر اکٹھا کیے جن کا تجزیہ جاری ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی روز میانمار میں سنگین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب سینئر ذمے داران کا محاسبہ عمل میں آئے۔

کومجین کے مطابق شہریوں کے خلاف جرائم وسیع پیمانے پر اور منظم طور پر نظر آتے ہیں۔ اس دوران میں تشدد کے مختلف نمونے سامنے آئے ہیں۔ گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے کے سلسلے میں لازمی قانونی اقدامات نہیں کیے گئے۔ گرفتار شدگان میں صحافی، طبی کارکنان اور سیاسی مخالفین شامل ہیں۔

ادھر شہریوں کے حقوق سے متعلق 500 سے زیادہ جماعتوں نے میانمار کے صوبے چِن میں بڑھتے تشدد کو روکنے کے لیے عالمی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ شوش زدہ سرحدی علاقہ فوجی حکومت کے خلاف مزاھمت کا محاذ بن چکا ہے۔

عینی شاہدین ، مقامی میڈیا اور اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں کے مطابق چِن میں بھاری اسلحہ اور فورسز اکٹھا کی جا رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جلد ہی مسلح گروپوں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے گا۔ یہ گروپ ملک میں فوجی انقلاب کے بعد تشکیل پائے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے جمعے کے روز 521 بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کی طرف سے جاری بیان میں سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ سرحد پر واقع چِن کے علاقے میں وسیع حملے سے قبل قرار داد جاری کرے اور حرکت میں آئے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں سیاسی اور انسانی حقوق کے بحران کے جلو میں بڑھتے حملوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔

رواں سال فوجی انقلاب کے بعد سے میانمار میں عوامی احتجاج اور پر تشدد واقعات دیکھے جا رہے ہیں۔ اس دوران مختلف علاقوں میں مختلف نسلی گروپوں کی جانب سے مسلح مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔