.

تیغرائی فورسزکی ادیس ابابا کی جانب پیش قدمی؛قربانی دینے کا وقت آگیا:وزیراعظم ابی احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے ہفتے کے روزعوام کے نام خط میں ملک کو بچانے کے لیے قربانی دینے کی اپیل کی ہے جبکہ تیغرائی کے جنگجوؤں نے دارالحکومت ادیس ابابا کی جانب پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس پرحملےکی دھمکی دی ہے۔

ابی احمد نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’ملک بچانے کے لیے قربانی تو دینا ہوگی لیکن یہ قربانی ایتھوپیا کو بچا لے گی۔یہ ایک مشکل وقت ہے،ایسے ہی وقت میں ہیرو پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

حکومت کی مواصلاتی سروس نے بھی سوشل میڈیا پر تیغرائی کی فورسزکے خلاف ابی احمد کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مواد پوسٹ کیا ہے۔اس نےٹویٹر پر لکھا ہے: ’’ایتھوپیائی کی حیثیت سےاپنی خودمختاری ،اتحاد اور شناخت کے لیے لڑنا ہمارے لیے ایک اعزاز ہے،قربانی کے بغیرکوئی ایتھوپیت نہیں۔‘‘

دریں اثناء تیغرائی پیپلزلبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) نے وزیراعظم ابی احمد کو بے دخل کرنے کے لیے حکومت مخالف آٹھ دیگردھڑوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ہے۔ایتھوپیا میں گذشتہ ایک سال سے جاری خانہ جنگی میں یہ نمایاں تازہ پیش رفت ہے۔اس خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور بیس لاکھ سے زیادہ بے گھرہوچکے ہیں۔

تیغرائی لبریشن فرنٹ اوراس کی اتحادی ملیشیاؤں نے ادیس ابابا کی جانب مارچ کی دھمکی دی ہے جبکہ ایتھوپیا کی حکومت نے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے اور اس کی فوج مسلح تصادم کی تیاری کررہی ہے۔اس نے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ تیغرائی جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے فوج میں دوبارہ شامل ہوں۔

عالمی برادری متحارب فریقوں سے جنگ بندی کے مطالبات کررہی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے جمعرات کو کہا:’’ہم ایتھوپیا کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی فوجی مہم روک دے۔وہ تیغرائی میں آبادی کے مراکزپرفضائی حملے اور نسلی ملیشیا کو متحرک کرنے کی مہم روک دے۔‘‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی جمعہ کو ایتھوپیا میں جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلح جھڑپوں میں توسیع پر’’گہری تشویش‘‘کا اظہارکیاتھا۔