.

سعودی فضائی دفاع نے اَبھا ہوائی اڈے کی سمت داغا گیا حوثی ملیشیا کا ڈرون مارگرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کے روز ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سمت داغے گئے حوثی ملیشیا کے ڈرون کو مارگرایا ہے۔

عرب اتحاد نے ہفتے کے روزٹویٹر پر اس حملے کی اطلاع دی ہے اورکہا ہے کہ حوثی ملیشیا کے اس طرح کے معاندانہ حملوں کو روکنے کے لیےبروقت اقدامات کیے جارہے ہیں۔اس نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کےلیے خطرے کے ذرائع سےنمٹاجارہا ہے۔

عرب اتحاد نے گذشتہ جمعرات کو بتایا تھا کہ اس نے یمن میں حکومت نوازافواج کے آخری گڑھ شمالی شہرمآرب کے قریب فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور گذشتہ 24 گھنٹے میں فضائی بمباری میں 115 حوثیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں جنگ آزما اس اتحاد نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران میں قریباًروزانہ ہی ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ان حملوں میں قریباً 2600 حوثی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیکن حوثی ملیشیا مآرب یا یمن کے دوسرے علاقوں میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں ہونے والےاپنے جانی نقصان پر شاذونادر ہی تبصرہ کرتی ہے۔ایک سرکاری فوجی عہدہ دار کے مطابق گذشتہ بدھ کوحوثیوں نے مآرب میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز پر بیلسٹک میزائل داغا تھاجس کے نتیجے میں بہت سے علاقوں میں مواصلاتی خدمات میں خلل پڑا ہے۔

یمن میں ستمبر2014ء سے جنگ جاری ہے۔تب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور قانونی حکومت کو بے دخل کردیا تھا۔اس کے ردعمل میں عرب اتحادی افواج نے 2015ء میں یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی اور تب سے وہ حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔

اقوام متحدہ یمن میں جاری صورت حال کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیتی ہے۔اس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں اور ملک میں قحط ایسی صورت حال کی وجہ سے لاکھوں نان جویں کو ترس رہے ہیں۔