.

سوڈان :احتجاجی تحریک کے رہ نماؤں نے شراکتِ اقتدار کی تجویزمسترد کردی، ہڑتالوں کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں احتجاجی تحریک نے گذشتہ ماہ بغاوت کے بعد فوج کے ساتھ شراکت اقتدارکے لیے بین الاقوامی تائید سے کیے جانے والے اقدامات کومسترد کردیا ہے اور اتوار سے دو روز کے لیے ملک گیراحتجاجی ریلیوں اور ہڑتالوں کی اپیل کی ہے۔

دریں اثناء ملک کی اہم سیاسی جماعت کے ایک رہ نما نے عالمی برادری پرزور دیا ہے کہ وہ جرنیلوں پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے باز رہیں۔انھوں نے اس کو’’بدقسمت اضافہ‘‘قراردیا ہے۔

سوڈانی فوج نے جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں 25 اکتوبر کو اقتدار پر مکمل قبضہ کرلیا تھا،عبوری انتظامی کونسل کو تحلیل کردیا اور درجنوں سرکاری عہدے داروں اورسیاست دانوں کو گرفتارکرلیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف خرطوم کی سڑکوں اور ملک کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

سوڈان میں اس فوجی بغاوت کے بعد سے عالمی برادری نے بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں تیزکردی ہیں۔اس فوجی بغاوت سے پہلے سے شورش زدہ ہارن آف افریقا کا خطہ مزیدعدم استحکام سے دوچار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

معزول مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کے خلاف بغاوت کی قیادت کرنے والی سوڈانی پروفیشنلزایسوسی ایشن(ایس پی اے) نے جمعہ کوایک بیان میں کہا کہ ثالثی کے اقدامات ملک میں بحران کو ’’دوبارہ جنم‘‘ دیں گے اورصورت حال کو مزید خراب کردیں گے۔ سوڈانی فوج اور سویلین رہ نماؤں کے درمیان ’’ایک نئے تصفیے‘‘کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں کوشاں ہیں۔

ایس پی اے نے اس وقت تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے جب تک جمہوری منتقلی کے عمل کی قیادت کے لیے مکمل سویلین حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ایس پی اے کی شاخیں ملک بھر میں موجود ہیں اور اس نے اس نعرے: ’کوئی مذاکرات نہیں، کوئی سمجھوتا نہیں، اقتدار میں حصہ داری نہیں‘کے تحت اتواراور پیر کو ہڑتالوں اور سول نافرمانی کی اپیل کی ہے۔

قبل ازیں اُمہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل الوثیق البریر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوج پرکشیدگی میں کمی کے لیے دباؤ ڈالےکیونکہ جرنیلوں نے اس کے بجائے عبوری حکومت ہی کو ختم کردیا ہے اور جمہوریت کے حامی رہنماؤں کو گرفتار کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اُمہ سوڈان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور معزول حکومت میں اس کے وزراء بھی شامل تھے۔

انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں واقعی ماحول سازگار بنانے اور معاملات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم مذاکرات کی میز پرمل بیٹھ سکیں۔ لیکن واضح طور پر فوجی دھڑا اپنے منصوبہ کو جاری رکھے ہوئے ہے اوراس کی طرف سے نیک نیتی کا مظاہرہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔‘‘

وہ فورسز فار فریڈم اینڈ چینج کے تین رہنماؤں کی گرفتاری کا ذکر کر رہے تھے۔فوجی قیادت نے انھیں جمعرات کو خرطوم میں اقوام متحدہ کے عہدے داروں سے ملاقات کے بعد حراست میں لے لیا تھا۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھی۔

البریرنے کہا کہ ثالثی کی کوششیں ابھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہیں، انھوں نے اس ناکامی کا ذمے دار فوج کو ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے آیندہ خونریزی کے امکان سے خبردارکیا کیونکہ احتجاجی تحریکیں بشمول ایس پی اے اورمزاحمتی کمیٹیاں مستقبل کی کسی بھی حکومت میں فوج کے عمل دخل کو ختم کرنے پراصرار کررہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فوج کے لیے سڑکوں پر خون کے بغیر اس صورت حال سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ’’وہ فوجی قیادت پر حکومت کی معزولی اور بغاوت کے اقدامات کو واپس لینے کے لیے دباؤ برقراررکھے۔ان ابتدائی مراحل میں ہمیں امید ہے کہ وہ سخت دباؤ جاری رکھے گی اور یہ دباؤ صرف ٹویٹس سے کی حد تک نہیں ہونا چاہیے۔اس کے لیے ایسے میکانزم کی ضرورت ہے جو فوجی قیادت پرحقیقی دباؤ ڈال سکے۔‘‘