.

چینی جاسوس کو امریکی راز چرانے کی کوشش کرنے پر سزا سنا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کے روز کہا کہ ایک وفاقی جیوری نے چین کی وزارت خارجہ کے ایک جاسوس کو متعدد امریکی فضائی کمپنیوں اور خلائی کمپنیوں سے تجارتی راز چرانے کی سازش کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

ینگون شو پہلا چینی ایجنٹ جسے مقدمے کے لیے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا۔ اسے اقتصادی جاسوسی کی کوشش کے ساتھ ساتھ تجارتی رازوں کی چوری کی سازش میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

ایک پریس ریلیز کے مطابق فیصلے کا مطلب ہے کہ ینگون کو تمام خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 60 سال تک قید اور 5 ملین ڈالر سے زائد جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسے وفاقی ضلعی عدالت کے جج کی طرف سے سزا سنائی جانے والی ہے۔

ایک بیان میں ’ایف بی آئی‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایلن کوہلر جونیئر نے کہا کہ بیورو درجنوں امریکی ایجنسیوں کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے معلومات اور ذرائع کا اشتراک کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ عوامی جمہوریہ چین کے حقیقی مقاصد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ ایک ویک اپ کال ہونا چاہیے۔ وہ اپنی معیشت اور اپنی فوج کے لیے امریکی ٹیکنالوجی چوری کر رہے ہیں۔

ینگون پر 2013 میں اقتصادی جاسوسی اور چین کے لیے تجارتی راز چرانے کے لیے متعدد الزامات عاید کیے گئے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے اہداف میں متعدد امریکی ایرو اسپیس کمپنیاں شامل ہیں جن میں جنرل الیکٹرک کی ایک یونٹ جی ای ایوی ایشن بھی شامل ہے۔