.

بیت المقدس میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانے کی کوئی گنجائش نہیں: بینیٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو واضح کر دیا ہے کہ وہ "بیت المقدس میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ کھولے جانے" کی مخالفت کریں گے۔

بینیٹ نے یہ بات ہفتے کے روز وزیر خارجہ یائر لیپڈ اور وزیر خزانہ ایوگڈور لیبرمین کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ بینیٹ کا کہنا تھا کہ "بیت المقدس میں فلسطینیوں کے کام آنے والے امریکی قونصل خانے کی کوئی جگہ نہیں ... بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہے"۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق اس موقع پر وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے یہ تجویز پیش کی کہ امریکی قونصل خانے کو دوبارہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی حکومت کے کمپاؤنڈ میں کھولا جائے۔

ادھر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے لیپڈ کا بیان مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم صرف اس بات کو قبول کریں گے کہ امریکی قونصل خانہ بیت المقدس میں ہو جو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے ... امریکی انتظامیہ نے اسی کا اعلان کیا تھا اور وہ اس پر عمل کی پابند ہے"۔

مئی 2018ء میں کھولا جانے والا امریکی قونصل خانہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی رابطے کا مرکز تھا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد قونصل خانے کا درجہ کم کر کے اسے "فلسطینی امور کا یونٹ" بنا کر بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے میں ضم کر دیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن نے اکتوبر میں ایک بار پھر باور کرایا تھا کہ قونصل خانے کا دوبارہ کھولا جانا فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ البتہ بلینکن نے اس حوالے سے کوئی نظام الاوقات کا تعین نہیں کیا۔

اکتوبر میں ہی فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس میں امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے لیے اپنے تمام وعدوں پر عمل درامد کرے جن میں سرفہرست بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کا دوبارہ کھولا جانا ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے نمائندہ مشن کا دوبارہ کھولا جانا اور اس مالی محاصرے کو ختم کرنا شامل ہے جو سابقہ انتظامیہ نے فلسطینی قومی اتھارٹی اور فلسطینی عوام پر عائد کیا تھا۔