.
یمن اور حوثی

یمن میں حوثی ملیشیا کی مسلط کردہ جنگ میں10 ہزار بچے لقمہ اجل بن چکے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر مآرب میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک تقریب میں انکشاف کیا گیا کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے چھیڑی جانے والی جنگ کے نتیجے میں اب تک 10,000 بچے مارے جا چکے ہیں جب کہ اس مکروہ جنگ سے 20 لاکھ سے زیادہ یمنی بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کیے ہیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر مھیب المخلافی نے یمن میں جاری جنگ کے بچوں پر مرتبھ ہونے والے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے یمنیوں کے خلاف شروع کی گئی جنگ سے 20 لاکھ سے زیادہ بچے نفسیاتی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ بچوں پر نفسیاتی اثرات کے اسباب میں براہ راست زخمی ہونا، جبری نقل مکانی اور بے گھر ہونا ہے۔

المخلافی نے 2014 کے اواخر میں آئینی حکومت کے خلاف حوثیوں کی بغاوت کے آغاز کے بعد سے یمن میں بچپن میں حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے سب سے نمایاں جرائم اور خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ کم از کم 10 ہزار بچے مارے گئے جب کہ 8000 دیگر بچوں کے اعضاء کاٹ دیے گئے؛ جن میں 800 ایسے بچے بھی شامل ہیں جو یمن میں 7 سال سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں مکمل یا جزوی طور پر مفلوج ہو چکے تھے۔

المخلافی نے نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا نے بغاوت کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً 20,000 بچوں کو جنگ کےلیے بھرتی کیا ہے اور انہیں یمنیوں کے خلاف اپنی لڑائیوں میں جھونک دیا ہے جو بچوں کے حقوق سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یمنی بچی ھنوف اسماعیل نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں بچوں کے خلاف حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے دہشت گردانہ جرائم اور مآرب میں پناہ گزین کیمپوں کو دانستہ طور پر مجرمانہ طریقے سے نشانہ بنانے کی مذمت کریں۔