.

امریکا جب تک ٹرمپ دورکی تمام پابندیاں ختم نہیں کرتا، جوہری پیش رفت جاری رہےگی:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے خبردارکیا ہے کہ امریکا جب تک سابق صدرڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں اس کے خلاف عایدکردہ تمام پابندیاں ’قابل تصدیق‘طریقے سے ختم نہیں کردیتا،اس وقت تک وہ اپنے جوہری پروگرام پرپیش رفت جاری رکھے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعیدخطیب زادہ سوموار کو نیوزبریفنگ میں کہا ہے کہ 2018 میں ٹرمپ دور میں جوہری سمجھوتے سے امریکاکے انخلا کے بعد تہران پرعایدکردہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔اگرامریکا ایسا نہیں کرتا توایران اس کے ردعمل میں جوہری اقدامات جاری رکھے گا۔

ایران نے سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے جواب میں 2019ء میں بتدریج جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیاں شروع کی تھیں اور اس نے یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کردی تھی۔

تاہم صدر جوبائیڈن نے برسراقتدارآنے کے بعد ایران سے بات چیت کا سلسلہ بحال کیا تھا اوراپریل سے جون تک دونوں ملکوں کے درمیان ویانا میں جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔البتہ ایران میں نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اب یہ 29 نومبرکوویانا میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔

سعیدخطیب زادہ نے ایران کے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ امریکاکواس بات کی ضمانت فراہم کرنی چاہیے کہ وہ مستقبل میں جوہری سمجھوتے سے دوبارہ دستبردار نہیں ہوگا۔

ترجمان نے صحافیوں کوبتایا کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور جوہری مذاکرات کار علی باقری کانی آیندہ مذاکرات پرتبادلہ خیال کے لیے رواں ہفتے برلن، لندن اور پیرس جائیں گے۔