.

قبرص میں اسرائیلیوں پرمبینہ حملے کی منصوبہ بندی میں 4 پاکستانی ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قبرصی پولیس نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ حکام اگلےماہ دسمبر میں جزیرے پر اسرائیلی تاجروں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں چھ افراد کے خلاف مقدمہ چلائیں گے۔ ان ملزمان میں چار پاکستانی تارکین وطن کے ملوث ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔ تاہم قبرص میں حکام نے سرکاری طورپر ان ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قبرص میں اسرائیلی سیاحوں اور تاجروں پر مبینہ حملے کی منصوبہ بندی میں ایک لبنانی اور چار پاکستانی ملوث ہیں۔

گذشتہ ماہ اسرائیل نے ایران پر قبرص میں اسرائیلی شہریوں کے خلاف "دہشت گرد" حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا تھا۔

زیر حراست چھ افراد پر قتل کی سازش، مجرمانہ تنظیم میں شمولیت، دہشت گردی، غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور جعلی سفری دستاویزات رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

ملزمان میں 4 پاکستانی اور ایک لبنانی

پولیس نے ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان میں سے چار پاکستانی فوڈ ڈیلیوری ڈرائیور ہیں اور ایک قبرصی لبنانی نژاد ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ستمبر کے آخر میں ایک آذربائیجانی "اجرتی قاتل" کی گرفتاری سے یہ مقدمہ شروع ہوا۔ اس شخص کو گاڑی میں پستول اور سائلنسر کے ساتھ پکڑا گیا۔

جمعہ کو نیقوسیا کی ایک عدالت نے کیس کو اگلے ماہ فوج داری عدالت میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ توقع ہے کہ مقدمے کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بند کمرے میں ہو گی۔

مبینہ کرائے کے قاتل کو 27 ستمبر کو ترکی کے زیر قبضہ قبرص کے شمالی حصے سے نکلتے ہوئے نیقوسیا میں ایک چیک پوائنٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔