.

لیبیا کے سابق فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے بیٹے نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے بیٹے نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا۔ دورے کا مقصد "سفارتی تعلقات قائم کرنے" کی درخواست اور "عسکری مدد" حاصل کرنے کی کوشش تھا۔ اس بات کا انکشاف اسرائیلی اخبار "ہآرٹز" نے اتوار کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کیا۔

رپورٹ کے مطابق خلیفہ حفتر کے نجی طیارے نے گذشتہ پیر کے روز دبئی سے اڑان بھری اور تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ طیارے میں حفتر کا بیٹا صدام سوار تھا۔ طیارہ 90 منٹ کے قریب ہوائی اڈے پر موجود رہا اور پھر دوبارہ سے روانہ ہو گیا۔ اس کی آخری منزل لیبیا تھا"۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حفتر اور ان کا بیٹا سفارتی تعلقات کے قیام کے وعدوں کے مقابل اسرائیل سے عسکری اور سفارتی مدد حاصل کرنے کے واسطے کوشاں ہیں۔ صدام حفتر کو اپنے 77 سالہ والد کا دست راس شمار کیا جاتا ہے۔ حفتر نے اپنے بیٹے صدام کو فوج میں بریگیڈ کمانڈر مقرر کیا۔

اگرچہ ان افراد کی شناخت واضح نہیں ہے جنہوں نے صدام حفتر کے بن گوریون ہوائی اڈے سے گزرنے کے دوران میں اس سے ملاقات کی ،،، البتہ رپورٹوں کے مطابق خلیفہ حفتر نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کی کونسل کے نمائندوں نے کئی برس لیبیا کے نمائندوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے۔ یہ رابطے اُس وقت کونسل کے سربراہ میئر بن شبات کے دور میں شروع ہوئے۔ شبات نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی شاباک کے ایک سابق ایجنٹ کو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے واسطے مقرر کیا۔ یہ ایجنٹ محض R کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے ایال ہولاتا کو قومی سلامتی کی کونسل کا سربراہ مقرر کیے جانے کے بعد لیبیا کے معاملے کو نمرود جیز دیکھ رہا ہے جو خود شاباک ایجنسی کا سابق سینئر ذمے دار ہے۔ وہ اس وقت قومی سلامتی کی کونسل کی اُس شاخ کا سربراہ ہے جو مشرق وسطی اور افریقا کے علاقوں اور وہاں سفارتی تعلقات کا معاملہ دیکھ رہی ہے۔

اخبار کی رپورٹ نے گذشتہ ہفتے صدام حفتر کے اسرائیل کے دورے کو لیبیا میں آئندہ ماہ دسمبر میں مقررہ انتخابات کے ساتھ مربوط کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل ہمیشہ سے لیبیا میں دل چسپی لیتا رہا ہے۔ اس کی وجہ لیبیا کا بحیرہ روم میں تزویراتی جغرافیائی محل وقوع اور مصری سرحد کے قریب ہونا ہے۔ اس کا مزید سبب اسرائیل میں لیبیائی یہودیوں کی بڑی کمیونٹی بھی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قذافی کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے لیبیا پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ اس کی وجہ لیبیا کا فلسطینی جماعتوں کو رقم، ہتھیار اور تربیت فراہم کرنا تھا۔

اسی طرح قذافی کی جانب سے جوہری ، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے حصول میں دل چسپی نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو متنبہ کر دیا تھا۔ اس پر موساد کے ایجنٹوں کو لیبیا میں تعینات کیا گیا۔

اسی دوران میں اسرائیل کے نمائندوں نے قذافی حکومت کے ساتھ سفارتی اور انسانی بنیادوں پر رابطے بھی کیے۔ ان رابطوں میں قذافی کا بیٹا سیف الاسلام شامل تھا جس نے لیبیائی نژاد یہودی تاجروں کے ذریعے بات چیت کا عمل انجام دیا۔

ہآرٹز کی رپورٹ کے مطابق جنرل خلیفہ حفتر نئی حکومت کی قیادت کرنا چاہتے ہیں تاہم وہ جانتے ہیں کہ اس بات کے مواقع کمزور ہیں۔ البتہ صدام حفتر کے لیے مواقع اپنے والد کے مواقع سے زیادہ بہتر ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اگر صدام حفتر نے آنے والے دنوں میں قومی یک جہتی کی حکومت میں مرکزی کردار ادا کیا تو پھر لیبیا کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے مواقع بڑھ جائیں گے۔