کرائسٹ چرچ قتل عام کے مجرم کی سزا کے خلاف اپیل پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں فائرنگ سے 51 مسلمان نمازیوں کی جان لینے والے برینٹن ٹرینٹ کے وکیل کے مطابق ان کے موکل اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ٹرینٹ کے وکیل ٹونی ایلس نے نیوزی لینڈ کی چیف کارونر کے نام لکھے جانے والے خط میں کہا ہے کہ ان کے موکل کو جیل میں غیر انسانی اور ذلت آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب انہوں نے دبائو میں آکر تمام جرائم کا اقبال جرم کیا۔

سفید فام بالادستی کے مرید برینٹن ٹرینٹ نے 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے کو فیس بک پر لائیو نشر کیا تھا۔ یہ حملہ نیوزی لینڈ کی حالیہ تاریخ کا سب سے گھنائونا جرم تھا جس کے سبب نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے تمام جان لیوا سیمی آٹو میٹک ہتھیاروں پر پابندی لگا دی تھی۔

پچھلے سال کے دوران اپنے مقدمے کی سماعت سے قبل ہی ٹرینٹ نے قتل کے 51، اقدام قتل کے 40 اور دہشت گردی کے تمام الزامات کو قبول کرتے ہوئے اقبال جرم کر لیا تھا۔ ان جرائم پر اسے نیوزی لینڈ کے قانون کی سخت ترین سزا عمر قید بنا پیرول دے دی گئی تھی۔

ٹرینٹ کے وکیل کا یہ میمو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق ٹرینٹ نے انہیں اس کیس کی معلومات صرف دو مقامی نیوز اداروں سے شئیر کرنے کی اجازت دی ہے۔

کارونر کے دفتر نے وکیل کی جانب سے میمو دئیے جانے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

نیوزی لینڈ کے مقامی میڈیا کے مطابق وکیل ایلس نے اپنے موکل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی خلاف ورزی کی بناء پر اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کریں۔

ایلس کے مطابق ٹرینٹ کو مقدمے سے قبل قید تنہائی میں رکھا گیا تھا اور اسے بروقت وکلاء، اپنے کیس کی معلومات اور دستاویزات تک رسائی بھی نہیں دی گئی تھی۔

اس سے قبل پچھلے ماہ کے دوران نیوزی لینڈ کی چیف کارونر ڈیبورا مارشل نے فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی اموات سے متعلق نئی تحقیقات کا آغاز کیا جس میں لاجواب سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں