.

دحلان فلسطینی صدر سے پہلے ماسکو پہنچ گئے ، فلسطینی اتھارٹی چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس کا رواں ماہ روسی دارالحکومت ماسکو کا دورہ سابقہ دوروں سے مختلف ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عباس سے پہلے ان کے سیاسی حریف اور "فتح" موومنٹ سے علاحدہ ہو جانے والے رہ نما محمد دحلان نے روسی وزارت خارجہ کی سرکاری دعوت پر ماسکو کے دورے پر پہنچ گئے۔

محمود عباس کے دورے سے تین ہفتے قبل فتح موومنٹ میں جمہوری اصلاحات کے گروپ کے سربراہ محمد دحلان نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تازہ ترین صورت حال اور امن عمل کو دوبارہ زندہ کرنے میں چار فریقی بین الاقوامی کمیٹی کے کردار کو واپس لانے کے لیے کمیٹی کے فعّال ہونے کے امکانات زیر بحث آئے۔

دحلان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جانبین نے فلسطینی مصالحت کی کامیابی کی اہمیت پر زور دیا۔ دحلان اور لاؤروف نے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے واسطے عرب دنیا اور علاقائی حمایت کو اکٹھا کرنے کو بنیادی قدم قرار دیا۔ دونوں نے تعاون اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تا کہ فلسطینی عوام اور اس کے منصفانہ قضیے کی سپورٹ کی جا سکے۔

ادھر محمود عباس اور فتح موومنٹ کی قیادت نے دحلان کی لاؤروف کے ساتھ ملاقات پر شدید بے چینی کا اظہار کیا ہے۔ روس میں فلسطینی سفیر عبدالحفیظ نوفل نے دحلان کے دورے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

دحلان اور ان کے ہمراہ وفد کی روسی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد ازاں دحلان نے لاؤروف کے ساتھ انفرادی ملاقات بھی کی۔

فلسطینی قیادت کی قریبی سیاسی شخصیت عدلی صادق کے مطابق ملاقات میں فلسطینی صدر محمود عباس اور محمد دحلان کے بیچ مصالحت کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی۔ صادق نے بتایا کہ ماسکو کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ آئندہ مارچ میں فتح موومنٹ کی آٹھویں کانفرنس فتح موومنٹ کی قیادت کی صفوں میں تبدیلی پر کام کرے گی۔ مزید یہ کہ دحلان غیر مشروط طور پر عباس کے ساتھ مصالحت کے واسطے تیار ہیں۔

آخری سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدارتی انتخابات کے لیے نامزد کرنے کی صورت میں دحلان کو فلسطینی ووٹروں کے 6 فی صد ووٹ ملیں گے۔ اس کے مقابل مروان البرغوثی 33 فی صد ووٹ حاصل کر لیں گے۔

دحلان نے رواں سال اپریل میں محمود عباس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے جتنے وعدے کیے تھے ان میں کوئی بھی پورا نہ کیا۔ ان کے دور میں بارہا فلسطینی داخلی انقسام سامنے آیا۔ ان کو صرف اقتدار میں رہنے اور اپنے مخالفین کے بل کسنے سے دل چسپی ہے"۔