.

ریپ میں ناکامی کے بعد مصرمیں بچوں کے ہاتھوں8 سالہ بچی کا بہیمانہ قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں ایک کم سن بچی کے اغوا کے بعد قتل کے واقعے نے عوامی حلقوں میں عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ سوھاج گورنری کے علاقےبنی جمیل میں پیش آیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آٹھ سالہ ندا احمد حنفی السائح کواس کے محلے کے دو بچوں13 سالہ اسلام اور آٹھ سالہ علی نے اس کے گھرکے سامنے سے اغوا کیا اور اسے نامعلوم مقام پرلے گئے، جہاں اسے مبینہ طور پرجنسی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگرناکامی پر اسے جان سے مار ڈالا۔

بچی کے والد
بچی کے والد

خفیہ کیمروں کی مدد سے بچی کے اغوا کے واقعے کے مناظر سامنے آنے کے بعد اس کی تلاش کی گئی۔ فوٹیج میں دو بچوں کے ہاتھوں ندا کو نامعلوم سمت میں لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس کی تحقیقات کے دوران پتا چلا ہے کہ بچی گھرکے سامنے کھیل رہی تھی۔اس دوران دو بچے تیرہ سالہ اسلام اور آٹھ سالہ علی اس کے پاس آئے اور اسے زبردستی ساتھ لے گئے۔

بچوں سے پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بچی کو ریپ کی کوشش کی تھی مگر ناکامی پر اسے جان سے مار ڈالا۔

مقتولہ کے والد احمد حنفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بچی کی لاش ایک پانی کی نالی سے ملی جسے پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔