.

عدن :امریکا کے خصوصی ایلچی کی یمنی وزیراعظم اور دوسرے حکام سے ملاقات

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی شمالی صوبہ مآرب میں جارحیت کی مذمت ،انسانی صورت حال پراظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹِم لینڈرکنگ نے پیر کے روزعدن میں وزیراعظم معین عبدالمالک سعید اور دوسرے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں سے ملاقات کی ہے اور ان سے جنگ زدہ ملک کی تازہ صورت حال اور شمالی صوبہ مآرب ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے سرکاری فوج کے خلاف جارحانہ حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

لینڈرکنگ کے ہمراہ یمن میں امریکی سفارت خانہ کی ناظم الامورکیتھی ویسٹلی نے عدن کا دورہ کیا جہاں انھوں نے وزیر اعظم کے علاوہ وزیر خارجہ احمد بن مبارک، عدن کے گورنر احمدلملس، دوسرے اعلیٰ سرکاری عہدےداروں اور یمن کی سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔امریکی ایلچی گذشتہ ایک ہفتے سے خطے سے دورے پر ہیں۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یمنی شہری انتہائی معاشی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ سیکورٹی خطرات کا شکار ہیں۔

پرائس کے بہ قول خصوصی ایلچی لینڈرکنگ نے اس بات پر زوردیا کہ ’’اب وقت آگیا ہے،تمام یمنی اس جنگ کے خاتمے کے لیے مل بیٹھیں اورمعیشت کی بحالی، بدعنوانی کا مقابلہ کرنے اور مصائب کے خاتمے کے لیے جرات مندانہ اصلاحات نافذ کریں۔‘‘

مس ویسٹلی نے وزیراعظم ڈاکٹرمعین عبدالملک کے اپنی حکومت کی موجودگی کے لیے عزم کا خیرمقدم کیا۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے مزید کام کرنا ہوگا جن سے جنگ کی وجہ سے پیداہونے والے مصائب کو کم کرنے میں مدد ملے۔

امریکی حکام نے یمنی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل سمیت دیگرگروپوں کے ساتھ داخلی ہم آہنگی کو مستحکم کرے کیونکہ تقسیم تمام فریقوں کو کمزور کرتی ہے اورمشکلات ومصائب کوبڑھاتی ہے۔

انھوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی مآرب پرجارحیت کی بھی مذمت کی۔اس جارحانہ فوجی مہم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے برسرزمین سنگین انسانی صورت حال میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پرائس نے کہا کہ امریکی حکومت علاقائی اوردیگرممالک سے یمن کی اقتصادی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کرتی ہے اوراس بات پر زوردیتی ہےکہ بنیادی خدمات اور معاشی مواقع کو بہتربنانا امن کی مضبوط بنیاد مہیا کرنے میں ایک اہم قدم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دورے سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ یمنیوں کو اپنے ملک کے روشن مستقبل کی تشکیل میں مدد دینے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے 2014 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو صنعاءسے بے دخل کردیا تھا۔تب سے ملک میں جنگ جاری ہے جبکہ حوثی ملیشیا جنگ بندی مذاکرات میں شامل ہونے سےانکاری ہے۔

واشنگٹن نے یمن میں جاری بحران کے پرامن حل تک پہنچنے میں مدد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ ہم آہنگی سے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں لیکن بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی کے پہلے اقدامات میں سے ایک حوثیوں کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے ہٹانا اور ان کے اعلیٰ حکام کا نام خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد (ایس ڈی جی ٹی) کی فہرست سے حذف کرناتھا۔

تجزیہ کاروں اوربعض امریکی حکام کے مطابق صدر بائیڈن کے اس فیصلے سے حوثیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں کےعالمی دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے اخراج کا فیصلہ یمن میں انسانی امداد کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کے اپنے سب سے بڑے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔حوثی ملیشیا نے قریباً روزانہ ہی سعودی عرب کے شہری اہداف کے خلاف ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔حوثیوں کے ان حملوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا نے سعودی عرب کو65 کروڑڈالرمالیت کے ہتھیارفروخت کرنےکی منظوری دی تھی۔