.

شامی نژاد امریکی یہودیوں کے وفد کی اسد رجیم کی سرکاری دعوت پر دمشق آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی نژاد امریکی یہودیوں کے ایک گروپ جس میں چھ خواتین اور چھ مرد شامل ہیں نے اسد رجیم کی سرکاری دعوت پر دمشق کا دورہ کیا جہاں ان کی پرتعیش میزبانی کی گئی۔

نیویارک کے بروکلین محلے میں رہائش پذیریہودیوں کے اس گروپ کو اپنے موبائل فون کے کیمرے سیلیفاں بناتے،دمشق کے ایک ریستوران میں کھانا کھاتے اور دارالحکومت دمشق کے علاقوں میں گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیل کے مذہبی اخبار’ مکور رشون‘ نے یہودیوں کے اس وفد کے دورہ دمشق کی تفصیلات شائع کی ہیں۔

اس دورے میں شریک ایک امریکی نے اسرائیلی ٹی وی چینل ’کان نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ان کے دورے کا مقصد دانتوں کا چیک اپ اور علاج کروانا تھا کیونکہ ان کے اخراجات شام میں امریکا کے مقابلے میں سستے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ آخری 3 یہودیوں سے ملے ہیں جو ابھی بھی دمشق میں مقیم ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ دورہ نجی تھا جس کا کوئی سیاسی تعلق یا وابستگی نہیں تھی، حالانکہ انہیں دمشق میں اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ البتہ ابھی تک ان کی ملاقات نہیں ہوسکی۔

انہوں نے بتایا کہ شامی مکینوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ انہوں نے ہماری زبان کی وجہ سے ہمیں خوش آمدید کہا اور انہیں بتا چلا کہ ہم یہودی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے ہمیں پہچان لیا اور کہا خوش آمدید یہ آپ کا ملک ہے، آپ واپس کیوں نہیں آتے؟ اسرائیلی اخبار کے رپورٹر کو معلوم ہوا کہ حکومت نے تین سال قبل شام کے یہودیوں کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔ یہ شامی انٹیلی جنس کی طرف سے دعوت تھی لیکن دورہ اس وقت ذاتی وجوہات کی بنا پرنہیں ہوا تھا۔

یہ دعوت اس بات کی علامت تھی کہ اسد حکومت امریکا میں مقیم شامی یہودیوں کے قریب جانے میں دلچسپی رکھتی ہے تاکہ دنیا میں اپنا بری ہوتی ساکھ اور امیج بہتر بنایا جا سکے۔ رپورٹر کی رائے کے مطابق بعض مقامات یہودی برادری اسد کے مخالفین کے ہتھے چڑھ گئی۔ جوبر محلے میں یہودیوں کا "ایلیاہ نبی" کے مزار پر بھی حاضری دی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی یہودیوں کے ایک اور وفد نے تقریباً ایک ماہ قبل حلب کا سفر کیا اور اس عبادت گاہ کا دورہ کیا جسے شامی حکومت کے مخالفین نے جنگ کے بعد بحال کیا تھا۔ یہ دورہ روسیوں کے جاری کردہ اجازت ناموں کے ساتھ ہوا۔