.

عراقی وزیراعظم پر حملے کے پیچھے ایران نواز گروپوں کا ہاتھ ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع [ینٹگان] نے کہا ہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے قتل کی کوشش میں ایران نواز گروپ ملوث تھے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے عراقی صدر برہم صالح سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے "دہشت گردانہ حملے" کی مذمت کا اظہار کیا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق بلنکن نے کہا کہ یہ حملہ عراق کی خودمختاری اور استحکام پر بھی حملہ تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی انتظامیہ کے عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ تعلقات اچھے طریقے سے قائم ہیں۔

عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی رہائش گاہ پر اتوار کی صبح ڈرون سے نشانہ بنا یا تھا جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی حکام اور عراقی مسلح دھڑوں کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ حملہ داعش نے کیا تھا۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائیٹرز کو بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون اور دھماکا خیز مواد ایرانی ساختہ تھے۔

اس کے علاوہ، دو عراقی سیکورٹی حکام اور "ایرانی وفادار " دھڑوں کے قریبی تین ذرائع (ایران کے وفادار، جیسا کہ مقامی طور پر بیان کیا جاتا ہے) نے وضاحت کی کہ یہ حملہ ان گروہوں میں سے کم از کم ایک نے کیا تھا۔

دونوں عہدیداروں نے کہا کہ حزب اللہ بریگیڈ اور عصائب اہل الحق نے مل کر اس حملے کا منصوبہ بنایا اور اسے مل کر انجام دیا تھا۔