.

موسمیاتی تحفظ کی جنگ میں توانائی کے کسی ذریعہ کو نظراندازنہیں کیاجاناچاہیے:سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں سے عالمی توانائی کی سلامتی کو نقصان پہنچنا چاہیے اور نہ ہی توانائی کے کسی خاص ذریعے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) میں سرفہرست پیداکنندہ ملک کے وزیرتوانائی کی جانب سے یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسکاٹ لینڈ میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ماحولیاتی سربراہ کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیےعالمی رہنماؤں نے اہم وعدے کیے ہیں۔ان میں بنیادی طور پر توانائی کے ذرائع تیل، کوئلہ اور گیس شامل ہیں۔

وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیزبن سلمان نے سربراہ اجلاس میں کہا کہ ہمیں ماحولیاتی حل کے تنوع اورگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے جیسا کہ پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا،توانائی کے کسی خاص ذریعے کے بارے میں یا اس کے خلاف کسی تعصب کے بغیران اہداف کو حاصل کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہاکہ ’’مذاکرات کاروں کوکم ترقی یافتہ ممالک کے خصوصی حالات سے متعلق حساس ہونا چاہیے۔ان میں سے بعض ممالک معاشی لاگت کی وجہ سے فوسل ایندھن کو ترک کرنے کے لیے جارحانہ اقدامات کے مطالبات کی مزاحمت کررہے ہیں۔‘‘

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ان ممالک کی پائیدار ترقی پر سمجھوتاکیے بغیرموسمیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کے اثرات کوکم کرنے میں مدد مہیا کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے مل جل کرکام کرنا چاہیے۔‘‘