.

’یورپ خطرے میں ہے‘:یورپی یونین کا نیا’’فوجی ڈاکٹرائن‘‘ پیش

ہمیں درپیش تمام خطرات میں شدت آرہی ہے،رکن ممالک کی ان سے نمٹنے کی صلاحیت ناکافی ہوتی جارہی ہے:جوسیپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے بدھ کے روز بلاک کو خبردار کیا ہے کہ اسے بیرون ملک مشترکہ فوجی کارروائیوں کی بنیاد کے لیے ایک پختہ اور پُرعزم نظریے (ڈاکٹرائن) سےاتفاق کرنا ہوگا۔اس نئے نظریے کے تحت کسی جگہ وقتِ ضرورت تعیناتی کے لیے دستیاب ایک ہنگامی فورس بھی تشکیل دی جائے گی۔

جوسیپ بوریل نے صحافیوں کو بتایا کہ’’اسٹریٹجک کمپاس‘‘کے نام اس فوجی نظریے کا پہلا مسودہ؛ یورپی یونین کوفوجی اصول کے قریب تربنانے اورنیٹو کے ’’اسٹریٹجک تصور‘‘کے مترادف ہوسکتا ہے۔یہ اتحاد کی سلامتی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم اہداف طے کرے گا۔

بوریل نے یورپی یونین کی رکن 27 ریاستوں کو بحث کے لیے بھیجی گئی ’حکمت عملی دستاویز‘ کے پیش لفظ میں کہا ہے کہ ’’یورپ خطرے میں ہے۔‘‘ انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ہمیں تیزی سے فوج تعینات کرنے کی صلاحیتوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہا:’’ایک خیال یہ ہے کہ یورپی یونین کی 5000 ارکان پر مشتمل بحرانی سپاہ ہمہ وقت موجود ہو، اگرچہ امریکا کی قیادت میں نیٹواتحاد بنیادی طور پر یورپ کے اجتماعی دفاع کا ذمے دار ہے۔‘‘

جوزسیپ بوریل کا کہنا تھا کہ ’’ہماری ایک تزویراتی ذمے داری ہے۔ شہری تحفظ چاہتے ہیں۔دنیا کے سب سے بڑے تجارتی بلاک کی حیثیت سے یورپی یونین اقتصادی طور پرتوطاقتور ہے لیکن یہ سافٹ پاورکافی نہیں ہے۔‘‘

انھوں نے مسودے کے پیش لفظ میں مزید لکھا ہے کہ ’’ہمیں درپیش تمام خطرات میں شدت آرہی ہے اوررکن ممالک کی انفرادی طورپران خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت ناکافی اورکم ترہوتی جارہی ہے۔‘‘

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع آیندہ پیر کو اس تجویز پرغورکریں گے۔اس کا مقصد مارچ میں ایک سیاسی دستاویز پراتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ستائیس یورپی ممالک میں انتہائی تربیت یافتہ فوجی اور سائبر، بحری اور فضائی فورسزموجود ہیں لیکن یورپی یونین کے تربیتی اور امدادی مشن کا حجم معمولی ہے۔

رکن ممالک میں امریکا کی طرح لاجسٹکس اورکمان اور کنٹرول صلاحیتوں کا بھی فقدان ہے اور وہ اس کی انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی صلاحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔

تنظیم نے خطرے کا ایک علاحدہ جائزہ خفیہ رکھا ہوا ہے لیکن مغربی سفارت کار یورپ کی سرحدوں پرناکام ریاستوں کوایسے علاقوں کے طور پرپیش کرتے ہیں جہاں یورپی یونین کواپنے امن فوجی بھیجنے یا شہریوں کو نکالنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدرجو بائیڈن کی آشیرباد سے فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون نے ایک اعلامیے میں یورپی یونین کی جانب سے یہ کہا تھا کہ اگر بلاک الگ سے اپنی فوجی صلاحیت پیدا کرتا ہے تو وہ امریکا کا زیادہ مفید اتحادی ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج سے جہاں بلاک ایک فوجی طاقت سے محروم ہواہے وہیں فرانس کو جرمنی کے ساتھ مل کردفاع کے شعبے میں یورپی یونین میں ایک بڑا کردار نبھانے کاموقع مل گیا ہے۔