.

ایران اور اس کے ایجنٹوں کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے عملی منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے اور وہ ایران کی جانب سے کسی بھی جارحیت یا جوہری عسکری خطرے سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کاملک تہران اور اس کے ایجنٹوں کےساتھ ممکنہ تنازع کے حوالے سے تیار ہے۔

کوچاوی جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فوج نے دمشن کے خلاف کام جاری رکھا ہوا ہے۔ گذشتہ برس مشرق وسطی کے تمام حصوں میں خفیہ کارروائیاں اور مشن انجام دیے گئے"۔

کوچاوی کا یہ بیان شام میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فضائی حملوں کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان حملوں میں ایران کے ساتھ مربوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل اور شام کی سرحد
اسرائیل اور شام کی سرحد

یاد رہے کہ تل ابیب نے گذشتہ برسوں کے دوران میں شام میں سیکڑوں فضائی حملے کیے۔ تاہم اسرائیل نے شاذ و نادر ہی ان کارروائیوں کا اعتراف کیا۔

اسرائیل اپنی شمالی سرحد پر ایرانی ملیشیاؤں کی موجودگی کو سرخ (سنگین ترین) غلطی شمار کرتا ہے۔ وہ بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ اسرائیلی سرحد پر ایرانی وجود کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی جو اسرائیل کے امن کے لیے خطرہ بنے۔

اسرائیلی ذمے داران گذشتہ مہینوں میں کئی مرتبہ تہران کے ساتھ جوہری بات چیت کے اجرا کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک عالمی برادری کو اس معاملے میں زیادہ سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔