.
یمن اور حوثی

سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے یمن میں بحالی امن اور مارب صوبے میں جارحیت کا سلسلہ فوری طور پر روک دینے پر زور دیا ہے۔

بدھ کے روز مذکورہ ارکان نے یمن میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حقیقی مکالمے کا حصہ بنیں۔ اس طرح یمن میں جاری بحران کے خاتمے اور یمنی عوام کے مصائب کم کرنے کی خاطر ایک جامع سیاسی حل تک پہنچا جا سکے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک (چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکا) کے یمن میں سفارتی مشنوں کے سربراہان نے یمن میں سعودی سفیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ان سربراہان نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے سرحد پار حملوں کی مذمت کی۔

یمن میں امریکی سفارت خانے نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ملاقات میں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حالیہ کوششوں کی حمایت ، اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی ایک جامع سیاسی حل کی ضرورت اور یمن میں آئینی حکومت کے لیے حمایت بھی زیر بحث آئی۔

علاوہ ازیں سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حامل پانچ ممالک کے سفارتی مشنوں کے سربراہان کا یمنی وزیر اعظم معین عبدالملک کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس میں حوثی ملیشیا کی جانب سے عسکری جارحیت بالخصوص مارب صوبے میں کارروائیوں اور شہریوں اور نقل مکانی کرنے والے افراد کے خلاف حوثیوں کے حملوں کا سلسلہ رکوانے کے واسطے مطلوب بین الاقوامی دباؤ کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

اس موقع پر یمنی وزیر اعظم نے زور دیا کہ سیاسی عمل کی راہ میں رکاوٹ بننے والے فریق کا تعین کیے جانے کی ضرورت ہے۔