.

یمن میں ایران کے آلہ کارحوثیوں نےامریکی سفارت خانہ کاعملہ یرغمال بنالیا:محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے امریکی سفارت خانے کے عملہ کوحراست میں لے لیا ہے اور سفارت خانے کی بعض املاک پر قبضہ کر لیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے العربیہ انگلش کو ایک ای میل میں بتایا کہ’’صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے یمنی عملہ کو کسی وضاحت کے بغیر حراست میں رکھا جا رہا ہے،ہمیں انھیں یرغمال بنانے پر تشویش لاحق ہے اور ہم ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

بلومبرگ نے اس سے قبل دوذرائع کے حوالے سے خبردی تھی کہ حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں امریکی سفارت خانے کے 25 یمنی ملازمین کو حراست میں لیا ہے۔

تاہم محکمہ خارجہ کےعہدہ دار نےبتایا کہ حراست میں لیے گئے زیادہ ترافراد کو رہا کر دیا گیا ہے،مگرحوثی جنگجو سفارت خانہ کے مزید یمنی ملازمین کویرغمال بنا رہے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے بھی منگل کے روز ایک بیان میں حراست میں لیے گئے متعدد افراد کی رہائی کی تصدیق کی تھی۔ البتہ انھوں نے مزید تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔

امریکی عہدہ دار نے مزید کہا ہے کہ یمنی حوثیوں نے سفارتی اقدار کے منافی امریکی مشن کے احاطے کا تقدس پامال کیا ہے۔امریکی سفارت خانے نے2015 میں اپنی سرگرمیاں معطل کردی تھیں اور اس سے پہلے حوثیوں کے زیرقبضہ آنے والی عمارت امریکی ایمبیسی کےزیراستعمال تھی۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے زیرقبضہ عمارت کو فوری طور پرخالی کردیں اور ضبط شدہ تمام اشیاء واملاک واپس کر دیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا اپنے عملہ کے ارکان کی رہائی اور اپنے احاطے کو خالی کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

یمن کے لیے امریکا کےخصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ اور یمن میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامورکیتھی ویسٹلی نے گذشتہ پیر کوعدن کا دورہ کیا تھاجہاں انھوں نے وزیر اعظم معین عبدالمالک سعید، وزیرخارجہ احمد بن مبارک، عدن کے گورنراحمد لملس،دوسرے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں اور یمن کی سول سوسائٹی کے نمایندوں سے ملاقات کی تھی۔

یادرہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے 2014 میں صنعاء میں یمن کی بین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔اس کے بعد یمنی حکومت نے دارالحکومت عارضی طور پر جنوبی شہرعدن میں منتقل کردیا تھا اوروہ وہیں سے نظم ونسق چلا رہی ہے جبکہ بعض ممالک نے اپنے سفارت خانے بھی صنعاء سے عدن میں منتقل کردیے تھے۔

حوثی ملیشیا ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اب جنگ بندی مذاکرات میں شمولیت سے انکاری ہے اور اس نے ماضی میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں طے شدہ معاہدے کی بھی پاسداری نہیں کی ہے۔

امریکا نے حال ہی میں یمن بحران کے پُرامن حل تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ ہم آہنگی سے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں مگر حوثیوں نے اپنی تخریبی اور تشددآمیز کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔وہ کم وبیش روزانہ ہی سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور علاقوں ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کررہے ہیں۔