.

افغان دارالحکومت کابل میں مِنی بس پر بم حملے میں صحافی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کی ایک چیک پوسٹ کے قریب بم دھماکے میں ایک مِنی بس تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں ایک معروف افغان صحافی ہلاک اورچارافراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکے کے چند گھنٹے کے بعد افغان صحافتی مرکز نے ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ بدقسمتی سے ہم نے ایک اورصحافی کوکھو دیا ہے اوربتایا ہے کہ آریانا ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے لیے کام کرنے والے حامد سیغانی دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

ان کی اہلیہ نے،جو خود بھی صحافیہ ہیں،اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا ہے:’’میں نے حامدکوکھودیا‘‘۔

دھماکے کی جگہ کے قریب واقع اسپتال نے ایک نوٹس پوسٹ کیا جس میں بتایاہے کہ ان کے پاس ایک ہلاک اور چار زخمیوں کولایا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں ایک شخص کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں افغان دارالحکومت کابل کے نواح میں واقع مغربی علاقے دشت برجی میں ہفتے کی شام زوردار دھماکے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ابتدائی ویڈیوزمیں ایک مصروف شاہراہ کے وسط میں دھماکے کے بعددھواں بلند ہوتے دیکھا جاسکتاہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ دھماکا کابل کے نواحی علاقے دشت برچی میں ہوا ہے۔اس علاقے میں شیعہ ہزارہ برادری کی اکثریت آباد ہے اور وہ گذشتہ برسوں سے سخت گیرجنگجوگروپ داعش کے دہشت گردی کےحملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

داعش نے اگست میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے مشرقی صوبہ ننگرہارمیں درجنوں بم دھماکےکیے ہیں۔ یہ صوبہ داعش کی سرگرمیوں کا مرکز ہے لیکن دارالحکومت کابل بڑی حد تک اس طرح کے تشددکے واقعات سے محفوظ رہاہے۔

اس دھماکے سے ایک روز قبل ہی جمعہ کو صوبہ ننگرہار میں ایک مسجد میں بم دھماکے میں تین افراد مارے گئے تھے اور15زخمی ہوگئے تھے۔

کابل میں دو نومبرکو ملک کے سب سے بڑے سردارمحمد داؤد خان فوجی اسپتال میں فائرنگ کے بعد دو دھماکوں کے نتیجے میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک اور30 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

مغرب کے حمایت یافتہ صدراشرف غنی کی حکومت کے خاتمے اورطالبان کی فتح کے بعداس طرح کے بم دھماکوں اور حملوں اضافہ ہواہے۔داعش نے ان حملوں میں مساجد اور مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ان میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔اس جنگجو گروپ نے 2017 میں ایک اسپتال پربڑا حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

داعش کے حملوں کی وجہ سے بیرون ملک بالخصوص مغربی ممالک میں اس بات کی تشویش بڑھ گئی ہے کہ جنگ زدہ ملک ایک مرتبہ پھر سخت گیر جنگجو گروپوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور یہ بیرون ملک دہشت گردی کے حملے کرسکتا ہےجیسا کہ 2001 میں القاعدہ کے ایک گروپ نے امریکا پر طیارہ حملے کیے تھے۔