.

ایردوآن کے محل کی تصویر اتارنے والے اسرائیلی جوڑے کے ساتھ کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

استنبول میں ایک عدالت نے سیاحت کے لیے آنے والے اسرائیلی جوڑے پر "جاسوسی" کا الزام عائد کر دیا۔ یہ بات ترکی کے سرکاری میڈیا نے بتائی ہے۔ جمعے کے روز عدالت کا یہ فیصلہ اسرائیلی شہری اور اس کی بیوی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے محل کی تصویر اتارنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی جوڑے کو جمعرات کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل جوڑے نے استنبول کے ایشیائی حصے میں واقع علاقے اسکدار کا دورہ کیا تھا۔ اس علاقے میں ریستورانوں اور تفریحی مقامات کے علاوہ ایردوآن کا ایک محل بھی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حراست میں لیے جانے والے شوہر اور بیوی کا نام موردی اور نتالی اوکنن ہے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول نے بتایا کہ دونوں افراد کو جمعہ کی صبح استنبول کی عدالت لے جایا گیا۔ وہاں جج نے ان پر سیاسی اور عسکری جاسوسی کا الزام عائد کیا۔

 میں اسرائیلی جوڑے کی شائع تصویرThe Times Of Israel
میں اسرائیلی جوڑے کی شائع تصویرThe Times Of Israel

دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لپیڈ کے دفتر کی جانب سے جمعے کے روز جاری ایک بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مذکورہ جوڑا کسی اسرائیلی ایجنسی کے لیے کام نہیں کرتا ہے۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے شوہر اور بیوی کے خاندانوں سے گفتگو کی ہے۔ یائر لیپڈ نے دونوں خاندانوں کو اطمینان دلایا ہے کہ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کو فوری طور پر حرکت میں آنے کے لیے کہا گیا ہے۔ لیپڈ کے مطابق قونصل خانہ تمام سطحوں پر کام کر رہا ہے تا کہ اسرائیلی جوڑے کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔