.

حوثیوں کا ہمارے سفارت خانے پر دھاوا ناقابل قبول خلاف ورزی ہے: امریکی ارکان کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان کے متعدد ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی ملیشیا کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی عمارت پر دھاوے کی مذمت کی ہے۔

مذکورہ ارکان نے ایک بیان میں زور دے کر کہا کہ امریکی سفارت خانے پر حوثیوں کا دھاوا اور اس کے متعدد یمنی ملازمین کی گرفتاری یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اس کو درگزر نہیں کیا جانا چاہیے۔

امریکی ارکان نے باور کرایا کہ ایک غیر ملکی سفارت خانے کی حدود کی پامالی اور اس کے ملازمین کو یرغمال بنانا ،،، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امن میں حوثیوں کا کوئی مفاد نہیں۔

ایوان نمائندگان کے بیان میں سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے سیکڑوں حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔ یمن کے صوبے مارب میں ایران نواز ملیشیا کے مسلسل حملوں کے حوالے سے ارکان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں نے یمنیوں کی زندگی کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نقل مکانی کی نئی لہر سامنے آئی ہے اور دنیا میں بد ترین انسانی المیہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔

بیان میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کے تمام ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں تنگ کرنے کی مہم روک دی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ بات ناقابل قبول ہو گی اور اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے جمعرات کی شام جاری ایک بیان میں حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یمنی دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے کی عمارت خالی کر دیں۔ ساتھ ہی زور دیا گیا تھا کہ سفارت خانے کے یمنی ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ بیان کے مطابق ملازمین کی اکثریت کو آزاد کر دیا گیا ہے تاہم بعض یمنی ملازمین بھی تک بلا جواز حراست میں ہیں۔

وزارت خارجہ نے باور کرایا کہ امریکی حکومت اپنے ملازمین کی رہائی اور سفارت خانے کو خالی کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گی۔

سال 2015ء میں صنعاء پر حوثیوں کے قبضے کے بعد وہاں امریکی سفارت خانے کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم بعض یمنی ملازمین نے گھر سے کام جاری رکھا تھا۔ بعد ازاں حوثی ملیشیا نے انہیں گرفتار کر لیا۔