.

دہلی میں سموگ کے باعث اسکول ایک ہفتے کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نئی دہلی کے وزیراعلیٰ نے ہفتہ کے روز اسکولوں کوایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا حکم دیاہے۔بھارتی دارالحکومت اس وقت خطرناک حد تک فضائی آلودگی کی بلند سطح سے دوچار ہے۔اس کے پیش نظروزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پیر سے اسکول بند کیے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کوآلودہ ہوا میں سانس نہ لینا پڑے۔

بھارت کے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ہفتہ کے روزایئرکوالٹی انڈیکس میں 500 کے پیمانے پر میگاسٹی میں آلودگی کی سطح 437 تھی۔

کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ اتوار سے آیندہ چاردن تک وسیع اور کھلی جگہوں پردھول اڑانےکے لیے کسی تعمیراتی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔

سرکاری دفاترکے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کو کہا گیا ہےاور نجی کاروباری اداروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ گھر سے کام کے آپشن پر عمل پیرا رہیں۔

جمعہ کے روز دہلی میں آلودگی کی سطح ’’شدید زون‘‘ میں تھی جس کے نتیجے میں مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے صحت کی ہنگامی وارننگ جاری کی گئی تھی۔

دہلی کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے جہاں ہرسال موسم سرما میں دو کروڑ افراد کو فیکٹریوں سے اخراج ،کاروں سے نکلنے والے دھویں اورفصلوں کی باقیات کو جلانے کی وجہ سے پیداہونے دھویں کے امتزاج سموگ کا سامنا ہوتا ہے اور شہر کی فضا میں ہرطرف دھواں چھایا ہوتا ہے۔

دہلی کی پڑوسی ریاستوں میں زرعی فضلے کو جلانےکا عمل سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود جاری ہے۔سوئس تنظیم آئی کیوایئر کی 2020 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 30 آلودہ ترین شہروں میں سے 22 بھارت میں ہیں،دہلی عالمی سطح پر سب سے زیادہ آلودہ دارالحکومت ہے۔

اسی سال لانسیٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2019 میں بھارت میں فضائی آلودگی کی وجہ سے سولہ لاکھ سترہزار اموات ہوئی تھیں۔ان میں دارالحکومت میں ہونے والی قریباً 17,500 اموات بھی شامل ہیں۔