.

کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کے سدباب کے لئے مصر میں مساجد میں عطیات پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے بدھ کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں مساجد کے اندر عطیات یا خصوصی بکسوں کے ذریعے مالی رقوم جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

وزارت اوقاف کے نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے اجرا کے 10 روز کے اندر مساجد کے اندر سے عطیات اور چندے کے خصوصی بکسوں کو ہٹا دیا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی ہو گی۔

وزارت کے ترجمان کے مطابق فیصلے کا اطلاق تمام سرکاری مساجد پر ہو گا۔ استثناء حاصل کرنے والی مساجد کے ناموں اور ان میں بکسوں کی تعداد کے حوالے سے فیصلہ آئندہ چند روز میں سامنے آ جائے گا۔

مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار جمعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی وزارت بینکوں کے ساتھ مل کر بعض وسائل پر غور کر رہی ہے جن کو عطیات کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد عطیات کی رقوم کے حوالے سے اعلی درجے کی شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

سیاسی امور کے ماہر اور محقق احمد البکری کے مطابق یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔ اس کے ذریعے الاخوان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مالی رقوم اکٹھا کرنے کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ یہ تنظیمیں عطیات کی رقوم میں سے تنظیم کی سرگرمیوں اور دہشت گرد سرگرمیوں پر خرچ کرتی ہیں۔ البکری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الاخوان قانونی نگرانی کے بغیر مساجد کے ذریعے اپنے لیے مالی رقوم جمع کر رہی تھی۔

البکری نے بتایا کہ الاخوان تنظیم غزہ میں بم باری اور بوسنیا اور چیچنیا کے واقعات جیسی بڑی پیش رفت سے فائدہ اٹھا کر مساجد میں عطیات جمع کرنے کے اپیلیں کیا کرتی تھی۔ اس طرح وہ بھاری رقوم اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔