.

برطانوی دارالعوام کے دوارکان کا’اعتراف‘؛رقم لےکرسعودی قیدیوں سے متعلق پینل میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی’’پارلیمانوں کی ماں‘‘ قرار دی جانے والی برطانوی دارالعوام کے ارکان کے ’’عجیب دھندے‘‘ کا انکشاف ہوا ہے اور وہ یہ کہ انھوں نے اپنے پارلیمانی دفاتر کو سعودی قیدیوں سے متعلق آن لائن پینل میں شرکت کی غرض سے میزبانوں سے رقم اینٹھنے کے عمل میں استعمال کیا ہے۔

برطانوی پارلیمان کے ان دونوں ارکان نے خود اس کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کے بارے میں ایک آن لائن پینل مباحثے میں پیش ہونے کے لیے معاوضہ وصول کیا تھا۔

یہ واقعہ گذشتہ سال نومبر میں پیش آیا تھا۔تب لبرل ڈیموکریٹ لیلیٰ مورن اور قدامت پسند جماعت کے رکن کرسپن بلنٹ کو قانونی فرم بائنڈمینز ایل ایل پی نے بالترتیب 3000 اور 6,000 برطانوی پاؤنڈ ادا کیے تھے تاکہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سعودی عرب میں زیرحراست سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ کی گفتگو سننے کے لیے ایک ’’مشاہداتی سیشن‘‘میں شرکت کریں۔

لیلیٰ مورن نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’’دیگرجماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے ارکان کے ساتھ میں نے سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کوحراست میں لینے کے معاملے پربائنڈ مینز کے ساتھ مل کرکام کیا ہے۔ مجھے اس بات پرشدید افسوس ہے کہ جب کووِڈ کی پابندیاں عاید تھیں تو میں نے پارلیمنٹ میں اپنے دفتر سے زوم کے ذریعے ایک میٹنگ میں شرکت کی تھی۔‘‘

مورن نے بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ اپنےبیان میں مزید کہا کہ ’’میں اس فعل کی پوری ذمے داری قبول کرتی ہوں اور ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔‘‘

بلنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’مجھے یقین نہیں آرہا کہ ٹیکس دہندگان کو بغیرکسی قیمت کے اجلاس کے لیے پارلیمانی دفترکو استعمال کرنے پرکوئی مسئلہ ہوگا لیکن اگر میرے خلاف شکایت درج کی گئی ہے تو میں پارلیمانی معیار کے کمشنر کی جانب سے کسی بھی تحقیقات کے نتائج کو قبول کروں گا۔‘‘

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمان کے قواعدوضوابط کے تحت اراکین کواپنی پارلیمانی سہولتوں کوغیرپارلیمانی کاموں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔