.

مروان برغوثی کی رہائی پر حماس کا اصرار سوالیہ نشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"حماس" اور اسرائیل کے درمیان متوقع قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بارے میں بات چیت کے جلو میں تحریک حماس اسرائیلی جیلوں میں قید سرکردہ فلسطینی رہ نماؤں کی رہائی کے اقدام کو شامل کرنا چاہتی ہے جن میں فتح کے اہم رہ نما فتح مروان برغوثی کا نام بھی شامل ہے۔ حماس اس ڈیل میں الرغوثی کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔

برغوثی کے بغیر کوئی ڈیل نہیں

حماس کے عرب اور اسلامی تعلقات کے دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا کہ "اسرائیل کو معاہدے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ورنہ اس کے فوجی روشنی نہیں دیکھیں گے۔ ہم نے فتح کے رہ نما مروان برغوثی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے رہا کر دیں گے۔ اس کا نام اس تبادلے کے معاہدے کا حصہ ہے جس میں تل ابیب کی قیادت رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسرائیلی حکام نے البرغوثی کو 2002 میں گرفتار کیا تھا۔ انہیں 5 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اس وقت شمالی اسرائیل کے ھداریم حراستی مرکز میں قید ہیں۔ انہیں "فتح" تحریک سے وابستہ مسلح گروپوں کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی ذمہ داری کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا جن میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا تھا۔

حالیہ عرصے میں حماس کی جانب سے برغوثی کو اسرائیلی حراست سے رہا کرنے کی خواہش کے کئی اشارے دیکھنے میں آئے، کیونکہ ان کی اہلیہ فدویٰ برغوثی نے گذشتہ ماہ قاہرہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی تھی، جہاں کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا، جن میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان میں اگلی ڈیل میں مروان برغوتی کو آزاد کرایا جائے گا۔

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن محمد نزال نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسز برغوثی نے تحریک کے رہ نماؤں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے شوہر مروان اسرائیل کو ان کی رہائی کے لیے مطلوبہ فہرست میں سرفہرست ہوں گے۔

مسز برغوثی نے اس بات کو مخفی نہیں رکھا۔ان کے وکیل خضر شقیرات نے انکشاف کیا کہ حماس نے انہیں بتایا کہ مروان کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ دیگر رہ نماؤں کے علاوہ قومی عمل کی علامت جنہیں اسرائیل اب بھی اپنی جیلوں میں قید کر رکھا ہے انہیں معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔ .

مبصرین کے مطابق برغوثی کے بارے میں حماس کی مسلسل گفتگواس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اسے رہا کرنے کی اپنی صلاحیت پر پراعتماد ہے، خاص طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پاس مضبوط کارڈز ہیں جو معاہدے میں حقیقی پیش رفت کی صورت میں اسرائیل کو اس کی تمام شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں اس وقت بھی 5 ہزار سے زاید فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔

اسرائیل معاہدے کے نام متعین کرنا چاہتا ہے

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ معاہدے کی بات چیت کس مرحلے تک پہنچی ہے لیکن "حماس" اسرائیل پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ یہ قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ اس نے مصری ثالثوں کے سامنے پیش کیے گئے روڈ میپ پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالی جنہوں نے اسے تل ابیب منتقل کیا۔

حماس کی بات چیت اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر ایال حولاتا کی جنرل انٹیلی جنس سروس کے حکام سے ملاقات کے لیے قاہرہ آمد کے موقع پر ہوئی تاکہ غزہ میں اسرائیلی نظربندوں کے معاملے میں ثالث کے طور پر مصر کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

اگر بات چیت میں قیدیوں کی فہرست پر غور کیا جاتا ہے تو اس صورت میں تل ابیب برغوثی کی رہائی کی مخالفت کرے گا۔ نیز اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اسرائیلیوں کے قتل کے ذمہ داروں کی رہائی کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل نے شرط عائد کی ہے کہ اس کی ترجیح ان قیدیوں کے ناموں کا تعین میں ہو گا جنہیں اگلے معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ عبرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق سیکیورٹی قیادت بچوں، خواتین، سینکڑوں بیمار فلسطینی قیدیوں اور ہلکی سزاؤں والے قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایسے قیدی جو زیادہ سزا کاٹ چکے ہیں وہ بھی رہا کیے جاسکتے ہیں۔