.

یواے ای اوراسرائیل میں جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کی تکمیل کے لیے باضابطہ مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ابراہیمی امن معاہدے کی چھتری تلے دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے باضابطہ طور پرمذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ان مذاکرات کا مقصد جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

یواے ای کے وزیربرائے اقتصادی امورعبداللہ بن طوق المری کا کہنا ہے کہ ہم اماراتی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے 50 منصوبوں پرکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان میں آٹھ عالمی منڈیوں کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کا پروگرام بھی شامل ہے۔

ان کے بہ قول دونوں ممالک کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ جب کامیاب مذاکرات کے بعد مکمل ہوگا تواس کا مقصد دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مستحکم بنانا، تجارتی تبادلے کواعلیٰ سطح تک فروغ دینا، دونوں ممالک اور خطے کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اس کے تحت امن، خوشحالی اور علاقائی استحکام کے حصول کے لیے مشترکہ تعاون کا ایک نیا میکانزم وضع کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور ریاستِ اسرائیل کے درمیان طے شدہ معاہدہ ابراہیم مشرق اوسط میں امن، استحکام اورخوشحالی کے فروغ کی مشترکہ خواہش کا مظہر ہے اوراس کو طے پائے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذرچکا ہے۔

المری کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے ہم اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ باہمی اور علاقائی سطح پر تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، صنعت اور سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت اس معاہدے نے وسیع معاشی مواقع پیدا کیے ہیں اورعلاقائی سطح پر بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں جس سے دونوں ممالک کے علاوہ علاقائی سطح پر بھی اقتصادی اور سماجی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یواے ای اور اسرائیل کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے کا مقصد گذشتہ کچھ عرصے کے دوران میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا ہے کیونکہ ستمبر2020 میں ابراہیمی امن معاہدے پردست خط کے ایک سال بعد ستمبر2021 کے آخر تک دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 3.5 ارب درہم سے زیادہ ہوچکا تھا۔ رواں سال کے پہلے نوماہ کے دوران میں دونوں ممالک کے درمیان غیرتیل غیرملکی تجارت کا حجم 2.9 ارب درہم رہا ہے۔