.

ایران معائنہ کاروں کو ورکشاپ تک ’ضروری‘ رسائی سے انکارکر رہا ہے: آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے کوابھی تک ایران میں ٹیسا کاراج سنٹری فیوج پارٹس ورکشاپ میں نگرانی کے کیمرے دوبارہ نصب کرنے کے لیے رسائی نہیں دی جارہی ہے حالانکہ یہ اقدام ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

یہ بات بدھ کوویانا میں قائم آئی اے ای اے کی جاری کردہ دوسری سہ ماہی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ جوہری توانائی ایجنسی کے بین الاقوامی انسپکٹروں کو’’ایران کی جوہری تنصیبات میں متعین سیکورٹی حکام کی جانب سے ضرورت سے زیادہ جسمانی تلاشیوں کا نشانہ بنایاجارہا ہے‘‘۔

وال اسٹریٹ جرنل نے منگل کے روزخبردی تھی کہ ایران نے نطنز میں واقع سینٹری فیوج ورکشاپ میں مہینوں پہلے پیداوار دوبارہ شروع کردی تھی۔اس تنصیب کو جون میں بظاہرتخریب کاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس حملے میں وہاں نصب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کیمروں میں سے ایک تباہ ہوگیا تھا۔اس واقعہ کے بعدایران نے باقی کیمرے بھی ہٹا دیے تھے۔

ایران نے اسرائیل کو اس تخریبی حملے کا ذمہ دار قراردیاتھا۔