.

ترکی نے لیبیا سے 140 اجرتی جنگجوؤں کو نکال لیا، متبادل کھیپ نہیں بھیجی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ترکی کے ہمنوا گروپوں کے اجرتی جنگجوؤں کی ایک کھیپ منگل کے روز ترکی کے طیارے کے ذریعے واپس شام آ گئی۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے آج بدھ کے روز بتایا کہ لیبیا سے کوچ کرنے والی مذکورہ کھیپ میں 140 جنگجو تھے جو واپس شام پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا آمد و رفت کا سلسلہ تقریبا 15 روز سے رکا ہوا تھا۔

معلومات کے مطابق واپس آنے والی کھیپ کے بدلے ابھی تک کوئی نئی کھیپ لیبیا نہیں بھجی گئی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر کے آغاز میں انقرہ کے ہمنوا شامی گروپوں کے تقریبا 150 جنگجو "چھٹیوں" پر چلے گئے تھے۔ تاہم ان جنگجوؤں کے متبادل کے طور پر دوسری کھیپ بھیج دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ تقریبا 3 سالوں سے ترکی کی جانب سے ہزاروں شامی جنگجوؤں کو لیبیا بھیجا جاتا رہا۔ اس کا مقصد وفاق کی سابقہ حکومت کی فورسز کو سپورٹ کرنا تھا جو فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی فوج کا مقابلہ کر رہی ہے۔

اس وقت سے بین الاقوامی سطح پر یہ مطالبہ سامنے آتا ہا کہ ان غیر ملکی اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا سے باہر کیا جائے اور لیبیا کے معاملات میں بیرونی مداخلت بند کی جائے۔ تاہم ترکی ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان کر چکا ہے کہ لیبیا میں اس کی موجودگی قانونی ہے۔ اگرچہ انقرہ جنوری 2020ء میں پہلی برلن کانفرنس سے لے کر جون 2021ء میں دوسری برلن کانفرنس تک خود بھی اس بات پر زور دیتا رہا کہ لیبیا سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کی ضرورت ہے تاہم ابھی تک ترکی نے خود اس پر عمل نہیں کیا۔