.

سعودی ’کے ایس ریلیف‘ اورعالمی ادارہ خوراک وزراعت میں دوطرفہ تعاون کے دوسمجھوتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بیرون ملک امدادی سرگرمیوں کے ذمے دارادارے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) کے نگران اعلیٰ ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے اقوام متحدہ کے تحت ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹرجنرل کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے فروغ کے دو سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ نے بدھ کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع تنظیم کے صدر دفاتر میں ایف اے او کے ڈائریکٹرجنرل کیو ڈانگ یو سے ملاقات کی ہے۔انھوں نے انسانی امداد کے شعبے میں باہمی دلچسپی کے امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور بالخصوص تحفظِ خوراک ،غذا اور بحران زدہ علاقوں میں قبل ازوقت بحالی ایسے موضوعات پربات چیت کی ہے۔

دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے پہلے سمجھوتے کا تعلق تحفظ خوراک اور بین الاقوامی سطح پرکم خوراکی کے مسئلے سے نمٹنے سے ہے۔اس سمجھوتے کے تحت دونوں اداروں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا اورمختلف ملکوں میں خوراک کی قلّت پرقابو پانے کے لیے اہداف کی تکمیل کی غرض سے ایک فریم ورک وضع کیا جائے گا۔

دوسرا سمجھوتا جنگ زدہ یمن میں جاری انسانی بحران کے خاتمے سے متعلق ہے۔اس کے تحت یمن کی دوگورنریوں حجہ اور لحج میں انسانی بحران اور کووِڈ-19 کی وبا سے متاثرہ یمنیوں کو ہنگامی زرعی امداد مہیا کی جائے گی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس سمجھوتے کے ذریعےیمن میں ’تحفظ خوراک‘ کویقینی بنایا جائے گا۔اس مقصد کے لیے زرعی شعبے سے وابستہ سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں اور کسانوں کو فوری امداد مہیا کی جائے گی۔

ڈاکٹرالربیعہ کا کہنا ہے کہ پہلے سمجھوتے کے تحت طرفین میں مختلف شعبوں میں تعاون کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ دوسرے سمجھوتے سے یمن میں بہت سے افراد کی مالی معاونت ہوسکے گی۔