.

سوڈان: مظاہرین پراشک آورگیس کی شیلنگ،متعددافراد کے زخمی ہونےکی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پراشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

سوڈان میں جمہوریت نواز مظاہرین نے بدھ کو فوجی حکومت کے خلاف دارالحکومت خرطوم ،اس کے جڑواں شہر اُم درمان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں احتجاجی ریلیوں کی اپیل کی تھی۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ان فوج مخالف مظاہروں سے قبل حکومت نے موبائل فون لائن سروس معطل کردی ہے جبکہ 25 اکتوبر کو فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے موبائل انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل ہے حالانکہ ایک جج نے متعدد مرتبہ انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کاحکم جاری کیا ہے۔

خرطوم اوردوسرے شہروں میں ہزاروں افراد نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔سوڈانی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے شیل اور براہ راست گولیاں چلائی تھیں۔

خرطوم میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔دریائے نیل کے اس پارواقع دارالحکومت کے جڑواں شہراُم درمان میں سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پربراہ راست فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے تھے۔

سوڈان کے جمہوریت نوازاتحاد میں شامل پروفیشنلزایسوسی ایشن اور مزاحمتی کمیٹیوں نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی۔اپریل 2019 میں سابق مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کے خلاف عوامی بغاوت کو منظم کرنے میں ان دونوں گروپوں نے بنیادی کردارادا کیا تھا اورملک کی دوسری سیاسی جماعتیں اور تحریکیں بھی ان کے ساتھ جمہوریت کے لیے جدوجہد میں شامل ہو گئی تھیں۔

اب یہ دونوں گروپ شراکت اقتدار کے معاہدے میں واپسی کی مخالفت کررہے ہیں۔اس کے تحت 2019 کے آخر میں معزول عبوری حکومت قائم کی گئی تھی۔اب وہ انتقال جمہوریت کے عمل کی قیادت کے لیے حکومت شہریوں کو سونپنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت سوڈانی فوج نے 25 اکتوبرکو اقتدار پرقبضہ کر لیا تھا،عبوری حکومت کو تحلیل کر دیا اوردرجنوں عہدے داروں اور سیاست دانوں کو گرفتارکرلیا تھا۔اس فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں اور ملک کے دوسرے شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

جنرل البرہان نے فوجی بغاوت کے بعد سوڈان کی نئی عبوری خودمختارکونسل کا اعلان کیا ہے اور وہ خود اس کا دوبارہ چیئرمین بن بیٹھے ہیں۔اپریل 2019ء میں سابق مطلق العنان صدرعمرحسن البشیر کو معزول کرنے کے بعد قائم کردہ عبوری کونسل کے سربراہ تھے۔اس کونسل کو انھوں نے خود ہی گذشتہ ماہ ایک مختصر فوجی انقلاب کے بعد توڑدیا تھا۔اس طرح ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہونے والی تمام پیش رفت معکوس ہوگئی ہے۔