.

ہم ایران کے خلاف تمام محاذوں پر کارروائی جاری رکھیں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے اپنی پیشرو حکومتوں کو کے موقف کو آگے بڑھاتے ہوئے تہران اور مغرب کے درمیان جوہری مذاکرات کے انجام سے قطع نظر اسرائیلی افواج کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کل منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان کچھ بھی ہو جائے اسرائیل اپنا دفاع خود کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک لبنان اور شام میں ایران اور اس کے پراکسیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز
اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز

تاہم انھوں نے بعض ممالک کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی خلاف ورزیوں کےخلاف عزم کا فقدان پایا جاتا ہے۔

ادھر اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے دنیا سے تہران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام محاذوں پر کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم تمام محاذوں پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ہم ان دنوں جوہری معاملے کے حوالے سے ایران کی پالیسی اور اس کی سرحدوں سے باہر اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ اور شام اور لبنان میں اس کے اثر و رسوخ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی افواج نے ایک انتہائی مربوط فوجی نظام تیار کیا ہے اور تربیت یافتہ افواج چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ صلاحیتیں حاصل کر رہی ہیں۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لبید نے اس سے قبل ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی راب میلے سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران کہا کہ تہران صرف جوہری مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اصل میں ایران کا اپنے وعدوں پر واپس آنے کا ارادہ نہیں ہے۔